خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 228
خطبات طاہر جلدم 228 خطبه جمعه ۱۵/ مارچ ۱۹۸۵ء اور دوسری تین آیات نمبر ۱۴ تا ۱۶ ہیں۔ان آیات میں اہل کتاب کو تبلیغ کرنے کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے اور ساتھ ہی نہایت پیارے اور حکیمانہ انداز میں یہ بھی فرما دیا گیا ہے کہ اگر اہل کتاب اسلام قبول نہ کریں تو یہ ان کا اپنا قصور ہوگا اور جہاں تک حضرت محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں کا تعلق ہے ان پر اس بارہ میں کوئی حرف نہیں آسکتا کیونکہ وہ اپنے فریضہ میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کرتے اور وہ اس رنگ میں تبلیغ کرتے ہیں کہ گویا حجت تمام ہو جاتی ہے۔علاوہ ازیں اہل کتاب کو کلیه رد کر دینا اور مردود قرار دینا کہ گویا ان میں کوئی بھی نیکی کی بات نہیں رہی۔اس کی بھی قرآن کریم نے عمومی طور پر نفی فرمائی ہے اور یہ ہدایت فرمائی کہ قوم کو بحیثیت قوم اس رنگ میں مغضوب اور ملعون قرار دے دینا کہ کوئی بھی استثناء باقی نہ رہے گویا کہ ان میں کوئی بھی شریف انسان نہیں ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے منشاء کے خلاف ہے چنانچہ اس وضاحت سے قرآن کریم نے ایسے لوگوں سے بھی امیدیں وابستہ فرما دیں جن کو امت محمد یہ بظاہر مردہ سمجھ بیٹھی تھی یا سمجھ بیٹھی ہواور بتایا کہ خدا تعالیٰ مردوں میں بھی جان ڈال سکتا ہے اس لئے ان قوموں سے کبھی مایوس نہیں ہونا چاہئے اور نہ اپنے فرائض سے کبھی غافل ہونا چاہئے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی بھلائی کی خاطر دنیا میں پیدا کی گئی تمہارے اندر یہ خوبیاں ہیں کہ تم نیک باتوں کا حکم دیتے ہو اور دیتے چلے جاتے ہو، برائیوں سے روکتے ہو اور روکتے چلے جاتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اسی پر تمہارا تو کل ہے۔تم اپنے ہاتھ میں داروغی کے حقوق نہیں لیتے اور تم ہی وہ لوگ ہو جو تبلیغ کا حق پوری طرح ادا کر دیتے ہو اور پھر اپنے رب پر اور اس کی قدرتوں پر ایمان رکھتے ہو پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَوْا مَنَ أَهْلُ الكِتبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمُ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے لئے بہتر ہوتا، گویا ان کا ایمان نہ لانا اب ان کا اپنا قصور ہے کیونکہ جہاں تک امت مسلمہ کا تعلق ہے اس نے تو اپنے فریضہ کو انتہا تک پہنچا دیا ہے، اب ان پر حرف نہیں آئے گا۔اب حرف ان اہل کتاب پر آئے گا جو مسلمانوں کی ان صفات کے ہوتے ہوئے پھر بھی ایمان لانے کی سعادت سے محروم رہ گئے۔پھر فرمایا کہ اہل کتاب سب برابر نہیں ہیں۔ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو امت قائمہ یعنی حق پر قائم ہیں اور انآء الیل راتوں کو اٹھ کر اللہ کی آیات