خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 213
خطبات طاہر جلدم 213 خطبہ جمعہ ۸/ مارچ ۱۹۸۵ء کر رہی ہے اور جماعت احمدیہ پر جھوٹے الزامات لگائے جار ہے ہیں اور جماعت کو اسلامی ممالک سے بے وفائی کرنے کا الزام دیا جا رہا ہے مگر یہ سب کچھ تاریخ بتائے گی کہ مسلمان ممالک کے حق میں جماعت احمدیہ کا کردار کیا رہا ہے اور ہمیشہ کی طرح آج بھی کیا ہے اور کیا رہے گا۔جماعت احمدیہ پر غداری کا معین طور پر ایک الزام یہ لگایا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ نے ہمیشہ غداری کی ہے مثلاً چوہدری محمد ظفر اللہ خان نے کشمیر کے مفاد سے غداری کی ہے، جماعت احمدیہ نے کشمیر کے خلاف کوششیں کی ہیں۔یہ بالکل الٹ قصہ ہے اور بہت بڑا جھوٹ اور بہتان ہے جس پر انہیں ذرا خوف خدا نہیں ہوا۔چنانچہ جسٹس منیر نے اپنی انکوائری رپورٹ میں اس بات کو بطور خاص نوٹ کیا ہے اور مخالفین کی اس جسارت اور الزام تراشی پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ جو اول درجہ کے مجاہدین ہیں ان کو پاکستان کا دشمن اور غدار قرار دیا جارہا ہے۔چنانچہ جہاں تک قیام پاکستان کے بعد کے واقعات کا تعلق ہے۔یہ بات بالکل درست ہے اور یہ تاریخی حقیقت بھی ہے کہ تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ میں جماعت احمدیہ سے بڑھ کر اور کسی اسلامی جماعت نے کسی مذہبی جماعت نے ایسی شاندار خدمات سرانجام نہیں دیں چنانچہ رسالہ طلوع اسلام مارچ ۱۹۴۸ء چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب کے عظیم جہاد کا ذکر کرتا ہے جو مسئلہ کشمیر کے بارہ میں چوہدری صاحب نے کیا اور پھر خلاصہ لکھتا ہے: ر حسن اتفاق سے پاکستان کو ایک ایسا قابل وکیل مل گیا جس نے اس کے حق و صداقت پر مبنی دعوی کو اس انداز سے پیش کیا کہ اس کے دلائل اور براہین عصائے موسوی بن کر رسیوں کے ان تمام سانپوں کو نگل گئے اور ایک دنیا نے دیکھ لیا کہ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا باطل بنا ہی اس لئے ہوتا ہے کہ حق کے مقابل پر میدان چھوڑ کے بھاگ جائے“ کل تک تم لوگ یہ کہہ رہے تھے اور آج احمد یوں کو غدار ٹھہرا رہے ہو! جسٹس منیر ، باؤنڈری کمیشن میں شامل تھے۔چنانچہ ۱۹۵۳ء میں تحقیقاتی عدالت میں جب مخالفین سلسلہ کی طرف سے یہ سوال اٹھائے گئے کہ گورداسپور کے بارہ میں چوہدری صاحب نے یہ کہا، کشمیر کے معاملہ میں یہ کہا، فلسطین کے مسئلہ پر یہ کہا تو جسٹس منیر پوری تحقیق کے بعد لکھتے ہیں: