خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 201 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 201

خطبات طاہر جلد۴ 201 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء بد بخت اور لعنتی نے یہ گوارا کر لیا کہ ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفیٰ کا نام ایک عیسائی کے ہاتھ سے مٹوا دے۔مگر میں ان کو متنبہ کرتا ہوں اور خبر دار کرتا ہوں کہ ہمارے خدا کو جس طرح اپنے نام کی غیرت ہے اسی طرح ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفیٰ " کے نام کی بھی غیرت ہے۔محمد مصطفی سے خود مٹنے کے لئے تیار ہو گئے تھے مگر خدا کے نام کو مٹنے نہیں دیتے تھے۔ہمارا خدا نہ خود مٹ سکتا ہے، نہ محمد کے پاک نام کو کبھی مٹنے دے گا۔اس لئے اے اہل پاکستان ! میں تمہیں خبر دار اور متنبہ کرتا ہوں کہ اگر تم میں کوئی غیرت اور حیا باقی ہے تو آؤ اور اس پاک تحریک میں ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ۔کلمہ، اس کی عزت اور اس کی حرمت کو قائم کرو اور دنیا کے کسی آمر اور کسی آمر کی پولیس اور فوج سے خوف نہ کھاؤ۔یہ وقت ہے اپنی جان کو خدائے جان آفرین کے سپرد کرنے کا، یہ وقت ہے خدا کی خاطر ہر طرح کی قربانیاں پیش کرنے کا، یہ وقت ہے یہ ثابت کرنے کا کہ ہم محمد مصطفی اللہ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے اور آپ کی عزت اور ناموس پر کسیکو حملہ نہیں کرنے دیں گے۔پس اے اہل پاکستان ! اگر تم اپنی بقا چاہتے ہو تو اپنی جان، اپنی روح ، اپنے کلمہ کی حفاظت کرو۔میں تمہیں متنبہ کرتا ہوں کہ اس کلمہ میں جس طرح بنانے کی طاقت ہے اس طرح مٹانے کی بھی طاقت موجود ہے۔یہ جوڑنے والا کلمہ بھی ہے اور توڑنے والا بھی مگر ان ہاتھوں کو توڑنے والا ہے جو اس کی طرف توڑنے کے لئے اٹھیں۔اللہ تمہیں عقل دے اور تمہیں ہدایت نصیب ہو“۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: ایک اعلان کرنا تھا جو بھول گیا مرزا ظفر احمد صاحب جو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کے منجھلے صاحبزادے تھے۔چند دن ہوئے کراچی میں حرکت قلب بند ہونے سے وفات پاگئے ہیں۔انا لله وانا الیه راجعون۔نماز جمعہ وعصر جمع ہوں گی اس کے بعد میں صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب مرحوم کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔احباب ان کی مغفرت کی دعا میں ساتھ شامل ہوں۔