خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 200 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 200

خطبات طاہر جلدم 200 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء احترام اکثر صورتوں میں موجود ہے اور وہ اس معاملہ میں حکومت سے تعاون کرنے کے لئے تیار نہیں لیکن بعض صورتوں میں نہایت ہی مکر وہ واقعات سامنے آرہے ہیں اور انہیں دیکھ کر دل میں خوف پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کی وجہ سے کہیں اس ملک کو سزا نہ دے۔ایک موقع پر ایک طالب علم کو ایک پولیس مین نے بس سے گھسیٹ لیا اور اس جرم میں کہ اس نے کلمہ کا بیج لگایا ہوا تھا تھانے لے گیا اور وہاں کلمہ لگانے پر پانچ سو روپے اس کی سزا مقرر ہوئی اور اسے زدوکوب بھی کیا گیا۔اس طالب علم نے کہا کہ میرے پاس پانچ سوروپے تو نہیں صرف تین سو روپے ہیں لیکن جہاں تک کلمہ کا تعلق ہے میں تو اسے نہیں اتاروں گا ، اگر تم میں طاقت ہے تو بے شک نوچ لو لیکن میرے دل سے کس طرح کلمہ نوچو گے ، وہ تو پھر بھی دل ہی میں رہے گا۔اس پر پولیس والوں نے کہا کہ اچھا ہم تمہیں ابھی سمجھا لیتے ہیں کہ کس طرح نوچیں گے۔چنانچہ وہ اسے تھانے سے باہر لے گئے اور ایک پل کے نیچے شدید مارا اتنا مارا کہ جسم کا کوئی حصہ بھی ضرب سے خالی نہ رہا اور وہ تین سوروپے لے لئے اور کہا کہ اچھا تین سو روپے جرمانہ اس طرح وصول ہو گیا اور دوسوروپے مارنے سے وصول ہو گیا ، ہم نے تو پانچ سوروپے پورے کر لئے۔تو ایسے ظالم طبع لوگ بھی وہاں موجود ہیں۔پس جماعت احمدیہ سے کسی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔جماعت احمد یہ پاکستان تو اپنے ملک کے لئے جانیں نثار کرنے والی جماعت ہے اور اسی طرح ہر ملک کی جماعت احمد یہ اپنے اپنے ملک کی وفادار ہے۔خطرہ تو ان بدقسمتوں سے ہے جو کلمہ کی توہین کرنے والے ہیں اور کلمہ بیچ کر کھا جانے والے ہیں۔ایک اور انتہائی دردناک واقعہ جو ہمارے علم میں آیا وہ اس سے بھی زیادہ ظالمانہ ہے کہ ایک موقع پر جب پولیس نے بھی کلمہ مثانے سے انکار کر دیا اور اس گاؤں کے سب مسلمانوں نے بھی صاف انکار کر دیا کہ ہم ہرگز یہ کلمہ نہیں مٹائیں گے تو اس بدبخت مجسٹریٹ نے سوچا کہ میں ایک عیسائی کو پکڑتا ہوں کہ وہ کلمہ مٹائے۔چنانچہ اس نے ایک عیسائی سے کہا کہ وہ کلمہ مٹائے۔اس نے کہا کہ میں اپنے پادری صاحب سے پوچھ لوں۔پادری نے یہ فتویٰ دیا کہ دیکھو! اللہ سیتو ہمیں کوئی دشمنی نہیں ہے خدا کی وحدانیت کا تو ہم بھی اقرار کرتے ہیں اور وہ بھی۔اس لئے کسی عیسائی کا ہاتھ لا اله الا اللہ کو نہیں مٹائے گا ، ہاں جاؤ اور (نعوذ بالله من ذالک ) محمد رسول اللہ علیہ کے نام کو مٹا دو۔اس