خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 198

خطبات طاہر جلدم 198 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۸۵ء میں ہر حربہ استعمال کیا کبھی جماعت احمدیہ کو بہانہ بنایا اور کبھی اور بہانے تلاش کر کے پاکستان کو نیست دو نابود کرنے کی جو کوششیں یہ کر سکتے تھے کر چکے ہیں اور ہر بار اللہ تعالیٰ کے فضل نے پاکستان کو بچایا اور ان کو ذلت آمیز شکست ہوئی اور اپنے ارادوں میں نا کام اور نامرادر ہے۔لیکن اب یہ تحریک ایک انتہائی خطرناک دور میں داخل ہو رہی ہے بلکہ ہو چکی ہے۔اب ان بدقسمتوں نے آخر یہ فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کی جان تو کلمہ توحید لا اله الا اللہ میں ہے اسی کی طاقت سے پاکستان بنایا گیا اور اس کلمہ تو حید کو مٹانے سے ہی یہ پاکستان مٹے گا۔یہ بات تو ان کی درست ہے لیکن اقدام نہایت ہی ناپاک اور ذلیل و رسوا کن ہے۔معلوم یہی ہوتا ہے کہ اب ایک منصوبہ کے تحت وہ یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ اس ملک کو مٹانے کے لئے اگر کلمہ تو حید کو بھی نیست و نابود کرنا پڑے تو ہم ایسا کر کے چھوڑیں گے۔چنانچہ پاکستان میں اس غرض سے ایک عام تحریک چلائی گئی ہے اور اس ملک کی یہ انتہائی بدقسمتی ہے کہ وہ لوگ جو ملک کی حفاظت کے لئے مامور تھے، جن کے سپرد یہ کام تھا کہ پاکستان اور پاکستان کی روح کو جس طرف سے بھی خطرہ ہوگا وہ اس کے مقابل پر لڑیں گے اور اس کے دفاع کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے۔آج ان کو ہی آلہ کار بنا کر کلمہ توحید یعنی پاکستان کی جان پر حملہ کیا جا رہا ہے۔اس سلسلہ میں ہمارے سامنے جو مختلف واقعات رونما ہورہے ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام کے پورا ہونے کا دور آ گیا ہے اور زمین میں بسنے والوں کی آراء اور خیالات تبدیل ہو رہے ہیں۔چنانچہ کلمہ مثانے کی تحریک کے سلسلہ میں بکثرت ایسے خطوط اور ایسی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں کہ حکومت پاکستان کے افسران نے جب پولیس کو حکم دیا کہ وہ کلمہ مٹائیں تو وہ مسجدوں میں پہنچے لیکن احمدیوں کی گریہ وزاری کے نتیجہ میں ان کے دل کانپ گئے اور بعضوں نے کلمہ مٹانے سے بالکل صاف انکار کر دیا۔چنانچہ ایک موقع پر ایک مجسٹریٹ نے اپنے ساتھ آئی ہوئی پولیس فورس کی طرف دیکھا اور کہا کہ یہ (احمدی ) بغیر یونیفارم کے تو کسی شخص کوکلمہ نہیں مٹانے دیں گے، یہ تو سر دھڑ کی بازی لگائے بیٹھے ہیں لیکن اگر حکومت مٹائے تو احمدی کہتے ہیں کہ ہم مزاحمت نہیں کریں گے۔اس صورت میں اللہ جانے اور حکومت۔جب وہ مجسٹریٹ اتنی بات کہہ رہا تھا تو الیں۔ایچ۔او نے کہا کہ جناب یہ باتیں تو بعد میں طے ہوں گی پہلے یہ بتائیں کہ مٹائے گا کون؟ اس نے کہا کہ لاز ما تم ہی مٹاؤ گے تمہیں اسی