خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 194
خطبات طاہر جلد۴ 194 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء چاہئے کہ تم سے کمزور ہیں وہ صرف چھ صوبوں میں ہیں تمام سرحدات پر تم رہتے۔۔۔۔۔۔۔بھائی پر مانند اگر بزدلی کی بات کرتا ہے تو وہ سچا ہے۔(رئیس الاحرار صفحه: ۲۰۵) پھر امیر شریعت عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری فرماتے ہیں: " سبحان اللہ ! کہتے ہیں ہندو ہم کو کھا جائے گا۔مسلمان پورا اونٹ کھا جاتا ہے پوری بھینس کھا جاتا ہے اس کو ہندو کیسے کھا سکتا ہے جو چڑیا بھی نہیں کھا 66 سکتا۔( تقریر سیّد عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری بمقام ایبٹ آباد رسالہ ترجمان الاسلام لا ہو ر ۲۲ ستمبر ۱۹۶۱ء صفحه : ۱۲) 66۔99 یہ ہے ان کا جہاد۔” کے ساتھ غذا کے غازی تو ہیں، بھینس اور اونٹ کھانے والے تو ہیں لیکن جب دوسری قومیں واقعہ ان کو کھانے کے لئے آتی ہیں تو اس وقت کوئی جہاد باقی نہیں رہتا۔اُس وقت اگر کوئی ان کے دفاع کے لئے اپنی جان اور مال قربان کرنے کے لئے آتا ہے تو وہ جماعت احمد یہ ہی کے نوجوان اور مجاہدین ہوتے ہیں۔ہر دور میں یہی واقعہ ہوا ہے اور اسے بار بار دہرایا گیا ہے۔آپ کو میدان جہاد میں کوئی احراری یا جماعت اسلامی کا آدمی دور تک بھی نظر نہیں آئے گا۔کتنے ہیں جوفلسطین میں جا کر خدمتیں کر رہے ہیں؟ کتنے ہیں جنہوں نے کشمیر موومنٹ میں حصہ لیا؟ کتنے ہیں جنہوں نے کشمیر کی بعد کی جنگ میں حصہ لیا؟ کوئی ایک مقام تو دکھا ئیں جہاں اسلام یا مسلمان کو خطرہ ہو اور یہ لوگ صف اوّل تو کجا آخری صف میں ہی جا کر لڑے ہوں۔اقبال کا نام آج جیا جا رہا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ پاکستان کا بنانے والا ہے اور اس کا تصور ایک الہامی درجہ رکھتا تھا۔لیکن کل یہی لوگ کیا کہہ رہے تھے۔یہی احراری کہتے تھے : بلاشبہ پاکستان کا یہ خیل سیاسی الہام ہے مگر ربانی الہام نہیں ہے بلکہ قصر بکنگھم کا الہام ہے جو ڈا کٹر اقبال کو بھی جب ہی ہوا تھا۔۔۔۔جب وہ لندن سے قریب ہی زمانہ میں واپس تشریف لائے تھے۔"تحریک پاکستان پر ایک نظر صفحه: ۱۸-۱۹ از حضرت علامہ الحاج مولانا محمد حفظ الرحمن صاحب سیوهاری ناظم اعلی مرکز یہ جمعیۃ علماء ہند )