خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 193
خطبات طاہر جلدم 193 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء تھے۔آپ دونوں ممبر تھے۔آپ نے اپنی رپورٹ کے صفحہ ۲۲۱ پر جماعت اسلامی کے متعلق لکھا: جماعت (اسلامی ) مسلم لیگ کے تصور پاکستان کی علی الاعلان مخالف تھی اور جب سے پاکستان قائم ہوا ہے جس کو نا پاکستان“ کہہ کر یاد کیا جاتا ہے، یہ جماعت موجودہ نظام حکومت اور اس کے چلانے والوں کی مخالفت کر رہی ہے۔ہمارے سامنے جماعت کی جو تحریریں پیش کی گئی ہیں ان میں سے ایک بھی نہیں جس میں مطالبہ پاکستان کی حمایت کا بعید سا اشارہ بھی موجود ہو“۔آج کل بھی پاکستان کے اخباروں میں شائع کیا جا رہا ہے اور آج سے پہلے بھی جماعت اسلامی اپنی بعض تحریریں پیش کیا کرتی تھی کہ ہم دراصل قیام پاکستان کے خلاف نہیں تھے۔چنانچہ تحقیقاتی عدالت میں جماعت اسلامی کی طرف سے وہ ساری تحریر میں پیش ہوئیں تو ان سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ میں لکھا جا رہا ہے کہ: ان میں سے ایک بھی نہیں جس میں مطالبہ پاکستان کی حمایت کا بعید سا اشارہ بھی موجود ہو اس کے برعکس یہ تحریریں جن میں کئی مفروضے بھی شامل ہیں تمام کی تمام اس شکل کی مخالف ہیں جس میں پاکستان وجود میں آیا اور 66 جس میں اب تک موجود ہے۔یہ تو تھا جماعت اسلامی کا کردار جو جماعت احمدیہ کی اولین دشمن جماعت ہے دوسرے نمبر پر مجلس احرار ہے۔جو اس وقت ہماری بدقسمت حکومت پر مسلط کئے گئے ہیں۔اس مسلم مملکت (پاکستان) کی تعمیر کے وقت جماعت احرار کا کردار کیا تھا۔اس وقت جب کہ مسلمانوں کی ہندوؤں کے خلاف قومی جدو جہد تھی اور مسلمان کی بقاء کے لئے ایک بڑی شدید جنگ لڑی جارہی تھی اس وقت احراری علماء مسلمانوں کو جو سبق دے رہے تھے اس کے متعلق چند اقتباسات آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔رئیس الاحرار جناب حبیب الرحمان صاحب لکھتے ہیں : تم ہندوؤں سے ڈرتے ہو کہ ہمیں کھا جائیں گے (ان سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور نہ ہی کسی الگ ملک کی ضرورت ہے ) ارے ! جو مرغے کی ایک ٹانگ نہیں کھا سکتا وہ تمہیں کیا کھا جائے گا، ڈرنا ہندوؤں کو