خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 189

خطبات طاہر جلدم 189 خطبه جمعه یکم مارچ ۱۹۸۵ء ضلع گورداسپور میں یوں تو متعدد مقامات پر مسلمان محصور ہیں مگر تین کیمپ بہت بڑے ہیں (۱) بٹالہ کے پناہ گزینوں کی حالت بہت خراب ہے جسے کل تک بٹالہ شریف کہا کرتے تھے لیکن جب عملاً امتحان کا وقت آیا تو منہ سے لفظ ” شریف نہیں نکلا کیونکہ وہاں مسلمانوں کا پرسان حال ہی کوئی نہیں تھا۔اس سے متعلق کہتے ہیں کہ بٹالہ کے پناہ گزینوں کی حالت بہت ہی خراب ہے۔نہ سر چھپانے کے لئے کوئی پناہ گاہ ہے ، نہ کھانے کے لئے کوئی چیز ہے۔ہندو فوجیوں نے قیامت برپا کر رکھی ہے زیورات اور سامان پر ڈاکے ڈالتے ہی جاتے تھے۔اب تو خواتین کی عصمت و عزت پر بھی ہاتھ ڈالا جاتا ہے۔دوسرا کیمپ سری گوبند پورہ میں ہے۔وہاں کی صورت حال بھی بٹالہ سے کم خوفناک نہیں۔تیسرا کیمپ قادیان میں ہے۔اس میں شک نہیں مرزائیوں نے مسلمانوں کی خدمت قابل شکریہ طریقے پر کی۔اخبار ”زمیندار“ پھر لکھتا ہے: اس وقت ہزاروں پناہ گزین احمدیوں کے گھروں سے روٹیاں کھا رہے ہیں۔قادیان کے مسلمانوں نے حکومت سے راشن کے لئے درخواست نہیں دی اور حکومت (جس کا نام ایک تھانیدار اور چند سکھ سپاہی ہے ) قادیان سے غلہ غصب کر کے وہاں کے باشندوں اور پناہ گزینوں کو بھوکوں مارنا چاہتی ہے۔کیا دنیا میں کسی قوم پر اس سے بڑھ کر بھی ظلم و ستم کیا جا سکتا ہے۔( زمیندار ۱۶ /اکتوبر ۱۹۴۷ء) ہاں میں کہتا ہوں کہ اس سے بھی بڑھ کر ظلم و ستم کیا جا سکتا ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ غیروں کے ہاتھوں ظلم خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اس سے اتنا دکھ نہیں پہنچا کرتا جتنا اپنوں کے ہاتھوں تکلیف پہنچے تو دکھ محسوس ہوتا ہے۔جب وہ ہاتھ جن سے یہ امیدیں وابستہ ہوں کہ وہ حفاظت کریں گے اور وہ زبانیں جن سے یہ امیدیں وابستہ ہوں کہ وہ تائید میں چلیں گی مگر وہ ہاتھ مخالفت میں اٹھنے لگیں اور وہ زبانیں چر کے لگانے لگیں اور اپنوں ہی کی مخالفت کرنے لگیں۔میں ”زمیندار“ کے اس