خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 161 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 161

خطبات طاہر جلدم 161 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۸۵ء ہوئے کہ جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے عمر بھر کی کمائیاں لٹا دیں جائیدادیں اونے پونے بیچ دیں یا ہندؤوں کے پاس ایسی امانتوں کے طور پر رکھواد میں جو کبھی واپس نہ ہوئیں اور جوز ادراہ لے کر وہ چلے تھے اس کے متعلق مؤرخین لکھتے ہیں کہ جب وہ واپس ہوئے تو ان پر جگہ جگہ قبائل کی طرف سے چھاپے مارے گئے اور جو کچھ بھی بچا کھچا سرمایہ ان کے پاس تھا وہ بھی لوٹ لیا گیا۔شدید بیماریاں پھیل گئیں۔کچھ لوگ فاقوں سے مر گئے ، کچھ اپنی متاع کی حفاظت میں لڑتے ہوئے مارے گئے۔چنانچہ انتہائی دردناک حالت میں مسلمانوں کے قافلے واپس پہنچے۔ان میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو بڑے تنعم کی زندگی بسر کرنے والے تھے وہ پھٹے ہوئے چیتھڑوں میں ملبوس ایسے حال میں واپس پہنچے کہ ان کا کچھ بھی ذریعہ معاش باقی نہ رہا۔یہ تھے مسلمانوں کے ہمدرد علماء جن کا یہ مشورہ تھا اور یہ تھا ان کے مشورے کا نتیجہ ادھر نعوذ بالله من ذالک اسلام اور وطن کے غدار جماعت احمدیہ کے فرزند ان کی پر خلوص نصیحت اور ہمدردانہ مشورہ تھا جس کو نظر انداز کر کے مسلمان شرمناک انجام سے ہمکنار ہوئے۔اب بھی جھوٹ اور فریب کاری کی وہی آواز ہے جو پاکستان میں اُٹھ رہی ہے جو کل عدم تعاون اور ترک موالات کی تحریک کی صورت میں اٹھی تھی اور نہایت شرمناک انجام پر منتج ہوئی تھی۔اب میں تحریک شدھی سے متعلق بتاتا ہوں کہ جب ہندوستان میں تحریک شدھی کے نتیجہ میں اسلام کو شدید خطرہ لاحق ہوا تو اس وقت جماعت احمدیہ کا کردار کیا تھا اور احراری ملاؤں کا کردار کیا تھا جو اس وقت بدقسمتی سے پاکستان پر مسلط کر دئے گئے ہیں۔تحریک شدھی نے بتادیا کہ کون اسلام کا سچا ہمدرد تھا اور کون جھوٹا تھا، کون بچی ماں کی طرح اسلام سے پیار کرتا ہے اور کون پیچھے کٹنی کی طرح باتیں بنا رہا تھا۔شدھی کی تحریک کیا تھا ؟ یہ وہ تحریک تھی جس کے نتیجہ میں ہندوستان کے ایک ایسے علاقے میں جو آگرہ کے ماحول میں ہے اور ملکانوں کا علاقہ کہلاتا ہے وہاں ۱۹۲۳ء میں اور اس سے کچھ پہلے اور کچھ بعد ہندؤوں نے یہ تحریک چلائی کہ یہاں کے جتنے مسلمان ہیں وہ سارے چونکہ پہلے ہندو تھے اس لئے ان کو اپنے مذہب میں واپس لے کر آنا ہے۔یہ تحریک اندر ہی اندر بڑی دیر تک چلتی رہی اور ایک عرصہ تک مسلمانوں کو اس کا علم ہی نہیں ہوا۔چنانچہ پہلی بار جب اس کے متعلق بعض خبریں اخباروں میں چھپیں اور بعض غریب مسلمانوں کی طرف سے دیو بند اور دارالندوہ لکھنو کو بھی مدد