خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 135 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 135

خطبات طاہر جلد ۴ 135 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۸۵ء کرتی اور نہ ان کو فرض مذہبی اور عبادت لازمی سے روکتی ہے ہم ان کے ملک میں اعلانیہ وعظ کہتے ہیں اور ترویج مذہب کرتے ہیں وہ کبھی مانع اور مزاحم نہیں ہوتی ہمارا اصل کام اشاعت توحید الہی ہے اور احیاء سنن سید المرسلین ہے سو ہم بلا روک ٹوک اس ملک میں کرتے ہیں ۔ پھر ہم سرکار انگریزی پر کس سبب سے جہاد کریں اور خلاف اصول طرفین کا خون بلا سبب گراویں یہ جواب باصواب سن کر سائل خاموش ہو گیا اور اصل غرض جہاد کی سمجھ لی۔“ لیکن ان علماء کو جو آج احمدیت کے خلاف بول رہے ہیں ان کو آج تک سمجھ نہیں آئی۔ علامہ شبلی نعمانی فرماتے ہیں : صلى الله عروسه رسول اللہ ﷺ کے عہد زریں سے لے کر آج تک مسلمانوں کا ہمیشہ یہ شعار رہا کہ وہ جس حکومت کے زیر سایہ رہے اس کے وفادار اور اطاعت گزار رہتے یہ صرف ان کا طرز عمل نہ تھا بلکہ ان کے مذہب کی تعلیم تھی جو قرآن مجید ، حدیث ، فقہ سب میں کنایہ اور صراحہ مذکور ہے ( مقالات شبلی جلد اول صفحہ: اے مطبع معارف اعظم گڑھ ۱۹۵۴ء ) خواجہ حسن نظامی صاحب فرماتے ہیں : وو 66 جہاد کا مسئلہ ہمارے ہاں بچے بچے کو معلوم ہے۔ یعنی جب تک انگریزی حکومت تھی اس وقت بچے بچے کو وہی مسئلہ معلوم تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے لیکن جس دن سے وہ حکومت گئی اس دن سے سارا مسئلہ ہی بدل گیا ہے اور اب ہر بچے کو کچھ اور ہی بتایا جا رہا ہے کہ ہمارے ماں باپ یہ کہا کرتے تھے۔ بچے بچے کو کیا معلوم تھا۔ خواجہ صاحب فرماتے ہیں: وہ جانتے ہیں کہ جب کفار مذہبی امور میں حارج ہوں اور امام عادل جس کے پاس حرب و ضرب کا پورا سامان ہولڑائی کا فتوی دے تو جنگ