خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 110 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 110

خطبات طاہر جلدم 110 66 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء چلتا کہ ان کے نیچے سازش کا بارود بچھانے والا کون ہے۔۔۔۔نئی دنیا دہلی 26 جون 1974ء) اس انکشاف پر تبصرہ کرتے ہوئے خود روز نامہ جدیدار دور پورٹ لکھتا ہے: یہ عجیب بات ہے کہ جماعت احمد یہ یورپ یا افریقہ میں جب کوئی تبلیغ کا اہم کام سر انجام دے رہی ہوتی ہے تو پاکستان میں عیسائی دنیا خود مسلمانوں کے ہاتھوں جماعت احمدیہ کے خلاف کوئی ہنگامہ کروادیتی ہے“۔روزنامه جدید اردو رپورٹر بمبئی ۲۰ دسمبر ۱۹۸۴ء شماره ۲۲ جلد ۵ ) وو یہ تو ہندوستان کے ایک اخبار کا تبصرہ ہے خود پاکستان میں اس بات کا مزید ثبوت یوں ملتا ہے کہ آج کی عیسائی دنیا خصوصاً پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں کا موجودہ حکومت کی کوششوں کے متعلق اور جماعت احمدیہ کے خلاف پروپیگنڈے سے متعلق کیا تاثر ہے انہی کی زبان میں سنئے۔محمد ہارون ایڈیٹر روز نامہ امروز لا ہور اپنی 22 جون 1984ء کی اشاعت میں یہ خبر دیتا ہے: لاہور ہائی کورٹ میں پاکستان نیشنل مسیحی کاشت کار پارٹی کے چیئرمین مسٹر پطرس گل کی رٹ 2 دسمبر 83ء کو دائر کی گئی تھی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ مرزائیوں کے قادیانی اور لاہوری گروپوں کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں سے پاکستان کے مسیحیوں کو بچایا جائے اور حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ تمام مرزائیوں کو غیر پسندیدہ سیاسی پارٹی قرار دے کر ان کا تمام لٹریچر ضبط کرے اور ان کے تمام مراکز اور عبادت گاہوں کو بند کرئے“۔تعجب ہے ان کو عدالت کی معرفت حکم دلوانے کی کیا ضرورت تھی یہ بات جو ان کی طرف سے شائع ہوئی یہی حکومت کے لئے حکم کا درجہ رکھتی تھی۔چنانچہ بعینہ ان کی خواہش کے مطابق جماعت احمدیہ کے خلاف یہی کارروائی کی گئی جو عیسائی نمائندہ مسٹر پطرس گل صاحب چاہتے تھے۔انہوں نے ہائی کورٹ میں جماعت احمدیہ کے خلاف جو مقدمہ دائر کیا تھا اور عدالت سے یہ استدعا کی تھی کہ حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ احمدیوں کے خلاف اقدام کرے وہی کام حکومت نے احمدیوں کے خلاف کر کے دکھا دیا۔