خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 109
خطبات طاہر جلد۴ 109 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء احمدیوں کے مخالفو! تمہارا تو ہمارے والا حال ہے جس طرح ہم لوگ بے حوصلہ اور تنگ نظر ہیں اور اپنے ہر مخالف کو کافر سمجھتے اور دائرہ عیسائیت سے خارج قرار دے دیتے ہیں تم یہی معاملہ احمدیوں کے ساتھ کر رہے ہو۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ یہ دراصل عیسائی دنیا ہی ہے جس نے احمدیت کے خلاف یہ لقمے آج کے مسلمان علماء کے منہ میں ڈالے ہیں اور یہ انہی کی سکھائی ہوئی ترکیبیں ہیں۔چنانچہ پروفیسر ڈاکٹر ھیو بن کے اس آرٹیکل میں جس کا اخبار نے ذکر کیا ہے یہ بات بڑی واضح طور پر پیش کی گئی ہے۔ایک طرف وہ کہتا ہے کہ اسلام معاذ اللہ ایک مردہ مذہب ہے، اسلام صرف تلوار کا مذہب تھا اسلام میں اب تلوار نہیں رہی اس لئے اسلام کی طاقت اس زمانہ میں چل ہی نہیں سکتی۔دوسری طرف وہ احمدیوں پر متعدد اعتراض کرتا ہے اور ساتھ ہی جماعت احمدیہ کو خطرناک بھی قرار دیتا چلا جاتا ہے اور ساتھ یہ بھی کہتا چلا جاتا ہے کہ یہ جماعت مسلمانوں کی نمائندہ ہی نہیں کہلا سکتی اس لئے عالم اسلام اس کو اس لئے رو کر دے گا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور عیسائیت اس لئے اس سے صرف نظر کرے گی کہ یہ جماعت اسلام کی نمائندہ ہی نہیں لہذا اسے اسلام کے دفاع کا حق ہی کیا ہے۔چنانچہ انہبی خیالات نے ایک با قاعدہ سازش کی صورت اختیار کی اور عیسائیت کا احمد بیت کے مخالف علماء سے گٹھ جوڑ ہوا ہے اور عیسائیوں کے ایماء ہی پر احمدیوں کے خلاف جب تحریک اٹھی تو اس وقت دلی سے چھپنے والے ایک ہفت روزہ نے ایسے ایک گٹھ جوڑ کا انکشاف کیا تھا جدید اردو ر پورٹر بمبئی نے اپنی ۲۰ دسمبر ۱۹۸۴ ء کی اشاعت میں اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھا۔" آج سے دس سال قبل دہلی کے ہفت روزہ اخبار ”نئی دنیا نے مندرجہ ذیل انکشاف کیا : چونکہ قادیانی ( یا بقول خود احمدی) مبلغ یورپ اور افریقہ میں عیسائیت کا زور توڑنے میں لگے ہوئے ہیں اور مشنری ان کے مقابلے میں عاجز آچکے ہیں اس لئے ہمارا خیال ہے کہ پاکستان کی خانہ جنگی میں ان کا ( یعنی عیسائی مشنریوں کا۔ناقل ) بڑا ہاتھ ہے۔عیسائی مشنری چاہتے ہیں کہ خود مسلمانوں کے ہاتھوں قادیانی فرقے کو اس قدر کمزور کر دیا جائے کہ ان میں عیسائیوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہ رہے۔عیسائی مشنری اپنے سرمائے کے زور سے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کو پتہ ہی نہیں