خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 108 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 108

خطبات طاہر جلدم 108 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء پس یہ وہ ترکیب تھی جسے کل ایک انگریز نے ایجاد کیا یا یورپ نے اختیار کیا اور آج مسلمان اس کو استعمال کر رہے ہیں۔چنانچہ جب ڈاکٹر ھیو بن نے احمدیت کے خلاف الزامات شائع کئے اور نئی حکمت عملی پیش کی تو باوجود اس کے کہ 66۔M ایک کیتھولک اخبار تھا پھر بھی وہ حق بات کہنے پر مجبور ہو گیا۔اس نے ڈاکٹر ھیو بن کو مخاطب کر کے لکھا: ” پروفیسر ڈاکٹر ھیو بن کا اسلام کے متعلق یہ لکھنا کہ وہ ایک جابر اور قہار خدا کا تصور پیش کرتا ہے ( اس لئے یہ بے معنی ہے۔یہ ایک ایسے خدا کا تصور پیش کرتا ہے جو ماضی کے قصے بن کر رہ گئے ہیں۔آج کی دنیا میں کوئی معقول آدمی ایسے جابر اور قہار خدا کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس لئے جہاں تک عقل کا تعلق ہے، جہاں تک دلائل کا تعلق ہے اسلام ایک مردہ قوت بن گیا اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اخبار لکھتا ہے ) سراسر مغالطہ انگیز ہے اور یہ کہنا کہ اسلام میں تجدید و احیاء کی قوت کا فقدان ہے، دور از حقیقت ہے۔کیونکہ خود جماعت احمدیہ تجدید و احیاء اسلام کا ایک زندہ ثبوت ہے۔اور شاید اسی لئے وہ عیسائی علماء کے لئے خوف و ہراس کا باعث بنی ہوئی ہے۔کچھ عرصہ ہوا پر و فیسر ڈاکٹر کیمپس (Camps) نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا تھا اور اس جماعت کی طرف سے ہوشیار رہنے کی طرف توجہ دلائی تھی پھر اخبار لکھتا ہے: احمدیت اسلام کی مختلف شکلوں میں سے ایک شکل ہے مگر یہ اسلام کی ایک ایسی ہی صورت ہے جو اسلام کی نمائندگی کرنے کا پورا پورا حق رکھتی ہے۔اس تحریک کو یقیناً مخالف خیالات رکھنے والے مسلمانوں کی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔مگر یہ مخالفت کرنے والے علمی رنگ میں بات کرنے سے تہی اور کیتھولک ذہنیت ہی کے مظہر نظر آتے ہیں جو اپنے خیالات سے اختلاف رکھنے والوں کو کافر اور دائرہ مذہب سے خارج قرار دیتے ہیں۔یہ اخبار کا تجزیہ ہے، خود کیتھولک ہے لیکن بڑی سچی بات کہہ گیا ہے اور کہتا ہے کہ اے