خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 107
خطبات طاہر جلد۴ 107 خطبه جمعه ۱۸ فروری ۱۹۸۵ء صرف یہی ایک جماعت ہے جس کا واحد مقصد تبلیغ اسلام ہے۔ اس جماعت کا اثر اس کے اعداد و شمار سے بہت زیادہ وسیع ہے۔ مذہب میں ان کا طرز استعمال بہت سے تعلیم یافتہ مسلمانوں نے اختیار کر لیا ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں میں رہتے ہوئے احمدیوں کا علم کلام عقلاً ماننا پڑتا ہے“ یہ باہر کی آزاد دنیا کے تاثرات ہیں۔ یہ اس دنیا کے تاثرات ہیں جو جانتی تھی کہ مذہبی جنگوں میں آج کیا ہو رہا ہے۔ یہ اس دنیا کے تاثرات ہیں جو جماعت کے متعلق بھی جانتی ہے اور اس کے مخالفین کے متعلق بھی جانتی ہے جو اپنی ڈیڑھ ڈیڑھ اینٹ کی مسجد میں بنا کر دنیا کے حالات سے یکسر غافل اندھیروں میں بیٹھے ہوئے ہیں جو سوء ظن سے کام لینے والے ہیں جن کو دنیا کا کوئی علم نہیں ان کو یہ پتہ ہی نہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے ۔ وہ تو بیٹھے یہ الزام تراشی کر رہے ہیں کہ جماعت احمد یہ انگریز کا لگایا ہوا پودا تھا جو اس غرض سے قائم کیا گیا کہ انگریزی حکومت کے مفادات کا تحفظ کرے۔ ہالینڈ میں جب جماعت احمد یہ کا مشن قائم ہوا تو وہاں کا ایک کیتھولک اخبار جو 66۔M کہلاتا ہے اس نے بھی جماعت کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا۔ لیکن اس کی رائے بیان کرنے سے پہلے یہ بتانا ضروری ہے کہ اس نے یہ اظہار کیوں کیا اسے اس کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ جماعت احمدیہ کی طرف سے ہالینڈ میں مشن کے قیام کے دوران ایک صاحب ڈاکٹڑھیو بن (Houben) نے جماعت کے خلاف الزام تراشی کا ایک نہایت ہی خطرناک سلسلہ شروع کر دیا اور عالم عیسائیت کو بیدار کیا اور متنبہ کیا کہ یہ جماعت ایک انتہائی خطرناک جماعت ہے اس سے بچ کے رہو اور اس سے بچنے کی حکمت عملی بھی ان کو بتائی اور وہ حکمت عملی یہ تھی کہ مسلمان تو ان کو مسلمان ہی نہیں سمجھتے اس لئے ان کا علاج یہ ہے کہ ان کو غیر مسلم کہا جائے کہ تم ہوتے کون ہوا اسلام کی نمائندگی کرنے والے؟ تمہارا اسلام سے تعلق ہی کیا ہے اور خود اسلام کے متعلق انہوں نے لکھا کہ یہ تو کوئی طاقت ہی نہیں رہی ۔ یہ تو ایک خوابیدہ چیز ہے اور جہاں تک جماعت احمد یہ کا تعلق ہے یہ تو مسلمان ہی نہیں ان سے تو واسطہ ہی تو ڑ لینا چاہئے ، ساری دنیا کو یہ سوچنا چاہئے اور کہنا چاہئے کہ یہ غیر مسلم ہیں لہذا ان سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔