خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1023
خطبات طاہر جلدم 1023 خطبه جمعه ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء انہوں نے سترہ دسمبر تک ادا کر دی تھی اور ا بھی یہ وصولیاں جاری ہیں۔تو یہ بات بتاتی ہے کہ جہاں خدا تعالیٰ قربانی کی تو فیق عطا فرماتا ہے وہاں نیکی کی سعادتیں بڑھا دیتا ہے، نیکی کی تو فیق بڑھا دیتا ہے اور ہر جہت میں وہ توفیق اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑھتی چلی جاتی ہے۔اب تھر پا کر ہی کو اس دفعہ سب سے زیادہ وقف جدید کی ضرورت بھی ہے کیونکہ وہی علاقہ ہے جہاں زیادہ تر وقف جدید کا کام چل رہا ہے اور جہاں ہندو زیادہ تعداد میں آباد ہیں۔تو بیرونی دنیا سے بھی ان کی مدد ہو تو بہت اچھا اقدام ہوگا انشاء اللہ۔اس میں برکت پڑے گی اور سلسلے کی ساری ضرورتیں بسہولت پوری ہو جائیں گی۔اس تحریک کے ساتھ میں نئے سال کا اعلان کرتا ہوں اور اس اعلان کے ساتھ میں یہ بھی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جماعت کی دیگر مالی ذمہ داریوں پر اس کا اثر نہیں پڑنا چاہئے۔اس شرط کے ساتھ یہ تحریک کی جارہی ہے کہ کسی جگہ سے بھی یہ شکوہ نہیں پھر آنا چاہئے کہ آپ نے ایک اور تحریک کر دی تھی اس لئے ہمارے فلاں چندے میں کسی قسم کی کمی آگئی ہے یا کسی اور طرف Diversion ہو گئی جس کے نتیجہ میں کمی آگئی۔ہر چندے میں ہر پہلو سے ہر سال ہمارا قدم خدا کے فضل سے آگے بڑھنا چاہئے اور یہ تحریک بھی اگر آپ اس روح کے ساتھ جاری کریں گے اور اس روح کے ساتھ اپنائیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ آپ کے ایمان میں، آپ کے اخلاص میں ہی برکت نہیں ڈالے گا بلکہ آپ کی مالی وسعتیں بھی بڑھائے گا اور پہلے سے زیادہ بہتر حال میں آپ اپنے آپ کو پائیں گے۔خدا کی راہ میں خرچ کرتے وقت خوف نہیں محسوس کرنا چاہئے۔بیوی بچوں کا حق ضرور رکھنا چاہئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسی قربانی سے منع فرمایا ہے جس کے نتیجہ میں اہل وعیال کا حق مارا جائے۔یعنی ان کے دل میں دین کے خلاف رد عمل پیدا ہو جائے۔اس حد تک قربانی سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اجتناب کا حکم فرمایا ہے۔بعض دفعہ یہ کہہ کر چندے واپس کئے کہ تم اپنے بیوی بچوں کو غریب چھوڑنا چاہتے ہو اور اپنے بیوی بچوں کو اس حال میں چھوڑ نا چاہتے ہو کہ وہ گویا دین سے پھر جائیں یہ نہیں ہو گا اس لئے عضو کے دائرے میں رہیں جو قرآن کریم کی اصولی تعلیم ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے تجھ سے پوچھتے ہیں کیا خرچ کریں؟ تو ان کو جواب دے کہ عــفـــو خرچ کرو۔(البقرہ : ۲۲۰) عفو سے مراد یہ ہے کہ اپنی بنیادی ضرورتوں سے جو زائد ہے اس میں سے