خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1022
خطبات طاہر جلدم 1022 خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء ہو سکتے ہیں اور بڑے اپنے شوق سے اس کو زیادہ دے سکتے ہیں۔عموماً پاکستان میں 12 روپے پر وقف جدید میں انسان شامل ہو جاتا ہے اور 12 روپے آخری حد نہیں ہے پہلی حد ہے۔اس لئے اگر چہ غرباء کی ایک بڑی تعداد 12 روپے تک ہی ٹھہرتی ہے لیکن امراء ایسے بھی ہیں جو اس سے بہت زیادہ دیتے ہیں ہزار ہا روپیہ دیتے ہیں۔تو میں امید کرتا ہوں کہ ایک پونڈ والے تو انشاء اللہ تعالیٰ بکثرت باہر کی جماعتوں میں پیدا ہو جائیں گے اور ایسے خاندان بھی ہو سکتے ہیں جو اپنے ہر بچے کو اس تحریک میں شامل کر لیں اور جن ملکوں میں پونڈ کرنسی رائج نہیں ہے وہ اپنے حالات دیکھ کر تخمینہ لگا کر پونڈ کے لگ بھگ کوئی رقم مقرر کر سکتے ہیں۔اب مثلاً امریکہ ہے وہ اگر دوڈالر مقرر کر لے تو ایک پونڈ سے تو کچھ زیادہ ہی ہے لیکن وہاں کی معیشت اور اقتصادیات کے تقاضے ایسے ہیں کہ دو ڈالر بھی ان کے لئے کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔اسی طرح جرمنی والے مارک مقرر کر لیں۔اپنے اپنے ملک کے حالات کے مطابق ایک تخمینہ لگائیں اور اس کے مطابق وہ فیصلہ کر لیں۔اس میں کوشش یہ ہونی چاہئے کہ تعداد زیادہ ہو ، کثرت کے ساتھ احمدی بچے ، عورتیں، بوڑھے اس میں شامل ہوں اور عام چندے کے لحاظ سے رقم اتنی رہے کہ خاندانوں پر زیادہ بوجھ نہ پڑے۔اس لحاظ سے میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ فوری طور پر یہ زائد ضرورتیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے ہندوستان اور پاکستان میں دونوں جگہوں میں انشاء اللہ تعالیٰ ہم پوری کر سکیں گے۔جہاں تک پاکستان کی جماعتوں کا تعلق ہے یہ عجیب بات ہے کہ جن علاقوں میں زیادہ سخت ابتلاء آئے ہیں اور غیر معمولی قربانیوں کی توفیق ملی ہے ان علاقوں میں چندے کا معیار پہلے سے بلند ہو گیا ہے۔مثلاً تھر پارکر ہے سب سے زیادہ وسیع پیمانے پر اس دور میں کلمہ طیبہ کے لئے تھر پار کرنے قربانی دی ہے ، سینکڑوں کی تعداد میں کام کرنے والے نو جوان جیلوں میں گئے اور بعض ایسے بڑے بڑے زمیندارے تھے جہاں مینیجر اور منشی وغیرہ جیلوں میں چلے گئے اس لئے کام کو بہت نقصان پہنچا۔بعض جائزے میں نے لئے ہیں تو پتہ چلا کہ محض خاص وقت کے اوپر ان کے اچھے کارندوں کے جیل میں جانے کے نتیجہ میں فصلوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچا ہے۔اس پہلو سے انسان دنیا کے حساب سے تو یہی سوچتا ہے کہ وہاں چندوں میں کمی آئی ہوگی مگر سارے پاکستان میں گزشتہ سال کے مقابل پر سب سے زیادہ اضافہ ضلع تھر پارکر میں ہوا ہے اور بائیس ہزار کے مقابل پر چالیس ہزار سے زائد رقم