خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1013 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1013

خطبات طاہر جلدم 1013 خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء قیمت پر ان کے چکر سے نکلنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔یعنی مزارعت کی جو بدترین اور ذلیل ترین قسم ایک انسان سوچ سکتا ہے وہ وہاں رائج تھی اور ابھی تک رائج ہے۔زمیندار جب اپنی زمین کسی کو مزارعت پر دیتا ہے تو زمین محنتی کی نہیں ہوتی زمین اس کی ہوتی ہے اور محنت کرنے والا اور ہے۔وہ دونوں اس کو نصف نصف یا جس طرح بھی طے ہو آپس میں بانٹتے ہیں۔یہاں زمین محنتی کی ہے مزارعت کا حصہ بٹانے والے کی نہیں۔محنت بھی اس کی ہے زمین بھی اس کی ہے اور اس کے باوجود اس کی ساری فصل غیر کی ہے اور اس فصل میں سے پھر وہ سود پر زیادہ قیمت پر خود اپنی ہوئی ہوئی فصل کا پھل اس سے منت کر کے مانگتا ہے اور اسی پر پھر وہ گزارہ کرتا ہے۔یہ صورتحال بہت ہی زیادہ خوفناک ہو جاتی اگر یہ لوگ مزدوری کے لئے سندھ کے علاقوں میں نہ جاتے۔اس لئے یہ مزدوری کے لئے جب سندھ کے علاقے میں جاتے ہیں تو وہاں سے کچھ نہ کچھ کما کر لے آتے ہیں جس سے ان کی بسر اوقات چلتی رہتی ہے۔وہاں جا کر پھر جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے زیادہ تر مسلمان زمینداروں سے واسطہ پڑتا ہے اور ان میں سے بھی بسا اوقات اکثر کے ظلم کا نشانہ بنا پڑتا ہے سوائے چند ایک قصبات کے وہاں کوئی سکول نہیں ہیں، کوئی شفا خانے نہیں ہیں۔اس لئے پسماندگی میں جہالت کا بھی اضافہ اور صحت کی خرابی ، اس کے باوجود یہ لوگ محنتی ہیں۔اس کثرت کے ساتھ ان میں سل کی بیماری پائی جاتی ہے اور دانتوں کی بیماری پائی جاتی ہے کہ کوئی اور قوم ہوتی تو بالکل ہی ہاتھ پاؤں توڑ کے بیٹھ جاتی لیکن بڑی ہمت والے لوگ ہیں۔ان تکلیفوں کے باوجود بہت محنتی قوم ہے اور سندھ میں جو عموماً زمینداروں میں محنت کی عادت ہے اس سے کئی گناہ زیادہ محنت کر سکتے ہیں اور دیانت دار ہیں، لین دین میں صاف ہیں۔یہ ایک اور خوبی ان میں حیرت انگیز طور پر پائی جاتی ہے۔ان حالات کو دیکھ کر عیسائی قوموں کے لئے تو یہ تر لقمہ تھے۔چنانچہ پیشتر اس سے کہ وقف جدید وہاں کام شروع کرتی عیسائیوں نے وہاں جال پھیلا دیئے تھے۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ پی۔ایل ۴۸۰ کی وجہ سے بہت سی رقم عیسائی مشنریوں کو امریکہ کی طرف سے گندم کی مدد کے طور پر ملتی تھی ، خشک دودھ ملتا تھا اور اسی طرح کئی قسم کی سہولتیں تھیں دوائیاں مفت تقسیم کرنے کے لئے ملتی تھیں، گشتی شفا خانے ان کے رائج تھے۔تو ان حالات میں وقف جدید نے وہاں کام کا آغاز کیا۔یعنی ہر سمت سے بظاہر یوں لگتا تھا