خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1012 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1012

خطبات طاہر جلدم 1012 خطبہ جمعہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء پیار کے ساتھ جب ان کو اسلام کی تعلیم دی گئی تو توجہ پیدا ہونی شروع ہوئی پھر انہیں میں سے واقفین بھی پیدا ہوئے جنہوں نے بہت جلدی جلدی اخلاص میں ترقی کی اور اپنے آپ کو وقف کیا۔اور جب ایک دفعہ یہ جمودٹوٹا تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تیزی کے ساتھ ان میں اسلام پھیلنا شروع ہو گیا۔اس کے علاوہ ایک اور بڑی اہم مشکل یہ تھی کہ ان قوموں کے خصوصی حالات کی وجہ سے عیسائی ان کو اپنا شکار سمجھتے تھے۔وہ خصوصی حالات خود بہت ہی درد ناک ہیں اور ان کی پسماندگی میں ان حالات نے اور بھی زیادہ دکھوں کا اضافہ کر دیا تھا۔اس ہندو علاقے میں صرف پسماندہ قومیں نہیں بلکہ ہندومہا جن بھی آباد ہے اور بعض قصبات میں تو سو فیصدی ہندوؤں کی آبادی ہے۔ایک بھی مسلمان قصبے کے اندر موجود نہیں اور ان کی ساری معیشت ، ساری اقتصادیات مہاجن کے ہاتھ میں ہے۔چنانچہ ان کی غربت سے استفادہ کرتے ہوئے اور موسمی مصائب سے فائدہ اٹھاتے ہوئے رفتہ رفتہ ہندومہا جن نے ان کی ساری زمینیں گروی رکھ لیں اور جب ایک موقع پر مجھے وہاں جا کے خود جائزہ لینے کی توفیق ملی تو اس وقت یہ کوائف سامنے آئے کہ سارے علاقے میں سو فیصدی زمین تو ان پسماندہ لوگوں کی ہے لیکن عملاً سو فیصدی فصل ہندومہاجن کی ہے۔طریق کار یہ جاری تھا کہ جب موسم مثلاً خراب ہو بعض دفعہ ( زیادہ تر باجرے کی فصل ہوتی تھی ) وقت پر بارش نہ ہو تو اگلے سال کے لئے ان کے پاس پیج کے لئے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے۔مہا جن سستے زمانے کا بیج لے کر سنبھال کے رکھ لیتا تھا۔اور اول تو زیادہ قیمت پر ان کو دیتا تھا اور پھر سود پر دیتا تھا اور وہاں کا جوسود ہے وہ بھی عام سود مختلف ہے۔وہ مہینے کے حساب سے ہے مثلاً پانچ روپے مہینہ سوروپے پر اور یہ سود بھی رعایت سمجھی جاتی ہے کہ بڑی نرمی کا سلوک کیا گیا ہے۔سال پر وہ عمداً اس لئے شمار نہیں کرتے کہ اس سے زیادہ نظر آئے گا۔ساٹھ روپے سو پر سال تو بہت بڑی رقم نظر آتی ہے۔تو وہ کہتے ہیں پانچ روپے مہینہ ، چھ روپے مہینہ، دس روپے مہینہ اس طرح وہ سود چلتا ہے اور سود پر دیا ہوا جو بیج ہے اگر وہ کاشت کیا جائے اور پھر وقت پر بارش نہ ہو تو سارا سال وہ پانچ روپے مہینہ سود پر بڑھنا شروع ہو جاتا ہے اور اگلی فصل کے لئے بعض دفعہ ان کو دوبارہ قرض لینا پڑتا ہے اور اس دوران پھر مہا جن سے لے کر کھاتے بھی ہیں۔اور اس طرح رفتہ رفتہ چند سالوں کے اندر یہ کیفیت ہوگئی کہ بعض علاقوں میں ان سے میں نے براہ راست خود سوال کیا تو پتہ چلا کہ آئندہ دس دس سال کی فصلوں کی آمدان پر قرض ہے اور کسی