خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1010 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1010

خطبات طاہر جلدم 1010 خطبه جمعه ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۵ء دیہاتی تربیت کا تھا اور دوسرا مقصد پاکستان میں بسنے والے ہندوؤں کو مسلمان بنانا تھا۔دیہاتی تربیت کے متعلق جب آغاز ہی میں میں نے جائزہ لیا تو بعض صورتوں میں تو نہایت ہی خوفناک کوائف سامنے آئے۔مختلف اضلاع کے بعض دیہات کو نمونہ بنا کر وہاں ایسے معلمین اور بعض دفعہ غیر معلمین جو اپنے آپ کو اس کام کے لئے پیش کرتے تھے ان کو بھجوا کر با قاعدہ ایک فارم کو بھروایا گیا۔اس سے معلوم ہوا کہ باجماعت نماز پڑھنے والوں کی تعداد بعض جگہ اتنی گر گئی ہے کہ پوری جماعت میں جتنے با جماعت نمازی ہونے چاہئیں اس کے مقابل پر دس فیصدی بھی نہیں رہے۔بعض دیہات میں بہت بڑی تعداد میں بچے ایسے نظر آئے جن کو نماز بے تر جمہ بھی نہیں آتی تھی اور تلفظ کی غلطیاں تو اتنی عام تھیں کہ کلمہ بھی صحیح تلفظ کے ساتھ ادا نہیں کیا جاسکتا تھا۔تو بہت ہی خوفناک اعداد و شمار سامنے آئے اور اس وقت یہ محسوس ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے جو خدا نے مصلح موعود کا وعدہ فرمایا تھا یہ اس وعدے کا ایک حصہ ہے۔بڑی گہری بصیرت بھی آپ کو عطا فرمائی اور وقتا فوقتا ایسے بنیادی اقدامات کرنے کی طرف بھی اللہ تعالیٰ توجہ دلاتا رہا جو جماعت کی اصلاح میں نمایاں سنگ میل کی حیثیت رکھتے تھے اور ہمیشہ رکھتے رہیں گے۔چنانچہ وقف جدید کی تحریک ان کو ائف اور اعدادوشمار کوملحوظ رکھتے ہوئے اپنے لئے خود ہی لائحہ عمل ڈھالتی رہی اور متعدد طریق ایسے اختیار کئے گئے جس سے جماعت کی حالت سنبھلنی شروع ہو، ان کو اپنے فرائض کا احساس ہو ، اپنے مقام کا احساس ہو اور جس حد تک ممکن ہو وہ دنیا کے سامنے ایک اچھا نمونہ پیش کر سکیں۔دیہاتی جماعتوں میں اگر چہ علم کی کمی کی وجہ سے تربیتی لحاظ سے کمزوری بھی جلدی پیدا ہو جاتی ہے لیکن عام طور پر اخلاص کا معیار اور اطاعت کا معیار بلند ہے اور کمزوری جتنی جلدی پیدا ہوتی ہے اتنی جلدی وہ دور کرنے کے لئے بھی تیار ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس تحریک کے نتیجے میں عملاً یہ بات سامنے آئی کہ بعض جماعتوں میں جہاں نمازی بھی دس فیصد نہیں تھے وہاں چند مہینے کی کوششوں میں ہی خدا کے فضل سے تیس چالیس فیصدی تک تہجد گزارلوگ پیدا ہو گئے۔بچے اور بوڑھے اور عور تیں سبھی نے نیک کاموں میں حیرت انگیز تعاون کا نمونہ دکھایا۔معلمین کی کمی کی وجہ سے ہمیں پھر ان کو بار بار مختلف اضلاع میں بدل بدل کر مقرر کرنا پڑا۔روپے کی شروع میں بہت کمی محسوس ہوتی تھی لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اس میں بھی برکت ڈالی اور رفتہ رفتہ یہ تحریک اس پہلو سے