خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 1004 of 1067

خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1004

خطبات طاہر جلدم 1004 خطبه جمعه ۲۰ ؍دسمبر ۱۹۸۵ء - کے رکھ دیا صرف گندگی کا ڈھیر ہے اس کے سوا کچھ بھی نہیں۔تو ایسا تحفہ دینے والا کیا محسوس کرے گا اگر اسکا احساس تیز ہے، اگر اس کا شعور بیدار ہے تو ہو سکتا ہے وہ عرق ندامت میں غرق جائے یہ خیال کر کے بھی کہ کسی پیارے کے حضور یہ چیز تحفے کے طور پر پیش کی جاسکتی ہے ؟ ہاں اگر دھو کہ طبیعت میں رکھتا ہے تو شاید اس کے دل میں یہ خیال آئے کہ دھوکا چل جائے گا۔میں بادشاہ کے حضور نذر گزران آؤں گا اس کے بعد دیکھی جائے گی۔کیا پتہ چلتا ہے کیا ہوا۔بڑا سجا کے اس گندی چیز کو بھی لے جاتا ہے۔عجیب بات ہے کہ ایسی نمازوں کے متعلق قرآن کریم نے یہی لفظ استعمال کیا ہے يُخْدِعُونَ الله ------ وَ مَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ (البقره:١٠) یہ بیوقوف تھے پیش کرتے ہیں جانتے ہوئے کہ یہ گندے ہیں جانتے ہوئے کہ یہ کیڑوں نے کھائے ہوئے ہیں ان کے اندر کچھ بھی نہیں رہا اور پھر یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کو دھوکا دے دیں گے۔پس دھو کے کا مضمون اگر دل سے نکل جائے اگر اپنی نماز کا عرفان نصیب ہو جائے تو پھر وہی گندی وہی ناکارہ چیز بھی خدا تعالیٰ چاہے تو قبول فرما سکتا ہے لیکن دھو کے کے ساتھ نہیں عجز کے ساتھ۔ایک انسان کے پاس اور کچھ نہیں ہے وہ کوشش بھی کرتا ہے اس کو کچھ نصیب نہیں ہوتا اور جو کچھ ہے وہ سمیٹ کر اس میں سے اچھی چیز اپنے پیارے کے حضور پیش کرتا ہے، لفظ تحفہ اس پر بھی اطلاق پائے گالیکن دھو کے والے پر نہیں۔پس یہ درست ہے کہ ہر انسان کی نماز کی کیفیت الگ الگ ہوگی اور ویسی نماز حضرت محمد مصطفی اللہ کے سوا کسی کو نصیب نہیں ہو سکتی جسے کامل تحفہ کہا جاتا ہے مگر اس کے باوجود اگر دھو کے کا پہلو بیچ میں سے نکال دیا جائے اور پورے عرفان کے ساتھ انسان عاجزی کے ساتھ خدا کے حضور یہ عرض کرے کہ اے خدا! کچھ بھی نہیں ہے میرے پاس لیکن دیانت داری سے میں تجھے پیار کرنا چاہتا ہوں، دیانت داری سے تیرے حضور کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں ،اس کھائے ہوئے سامان کو قبول کر لے، ان کمزور نمازوں میں تو جان ڈال دے کیونکہ جسے تو قبول کر لے گا اسے عظمت نصیب ہو جائے گی۔اس کا گہرا تعلق آنحضرت ﷺ کی عبادات سے ہے اور یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر تم سچ سچ اپنی عبادتوں کو خوبصورت اور حسین بنانا چاہتے ہو تو محمد مصطفی عملے سے اس کے طریق سیکھو کیونکہ اس کے معاً بعد فرمایا السّلام علیک ایھا النبی اے محمد مصطفی عملے ! اے نبی کامل! تخفے تو تو نے ادا کئے تھے ، تجھے