خطبات طاہر (جلد 4۔ 1985ء) — Page 1003
خطبات طاہر جلد ۴ 1003 خطبه جمعه ۲۰ دسمبر ۱۹۸۵ء طریق آپ کو مل جائیں گے۔ سب سے پہلی بات یہ کہ تحفہ تو ایک ایسی چیز ہے کو کہتے ہیں جس میں جبر کا کوئی پہلو نہیں ، کراہت کا کوئی پہلو نہیں اور محبت کے سوا کوئی جذبہ نہیں ہے جو انسان کو اپنی ایک چیز چھوڑ کر دوسرے کی طرف منتقل کرنے پر آمادہ کرتا ہے ۔ کسی اور انتقال میں یہ بات نہیں پائی جاتی سوائے تحفے کے۔ خالصہ محبت اور پیار کے نتیجہ میں جو چیز پیش کی جاتی ہے اس کا نام تحفہ ہے اور پیار سے جو چیز پیش کی جاتی ہے اس میں اکتاہٹ نہیں ہو سکتی ، اس میں بیزاری پیدا نہیں ہو سکتی ۔ وہ سجا کر پیش کی جاتی ہے، سنوار کر پیش کی جاتی ہے۔ تو جب کہا جاتا ہے التحیات اللہ تو سب سے پہلے التحیات کا اطلاق نمازوں پر ہوتا ہے کیونکہ اس کے معاً بعد فرمایا الـصـلـوت والطيبات فرمایا اپنی نمازوں کو تحفے بنا کر پیش کرو بیگار کے طور پر نہ پڑھنا اس طرح نہ پڑھنا کہ تم مجبور ہو اور گسائی کی حالت میں خدا کے سامنے یہ نمازیں پیش کر رہے ہو جبکہ دل اس میں شامل نہیں ۔ چٹی ادا کی اور فارغ ہو کر انسان باہر چلا گیا۔ اگر یہ روح ہے تو یہ التحیات کہلا ہی نہیں سکتی تو التحیات کہتے ہی جہاں ایک معنی انسان کو ملتا ہے وہاں ایک خطرے کا الارم بھی بجنا شروع ہو جاتا ہے۔ اچانک مومن لرز اٹھتا ہے کہ جو کچھ نمازیں میں نے پڑھی ہیں ان کو میں تحفہ کہہ بھی سکتا ہوں؟ ان میں وہ بات وہ شان پائی بھی جاتی ہے جو تحفوں کی شان کہلاتی ہے اور پھر کس کے حضور پیش کر رہا ہوں رب عظیم اور ربی الاعلیٰ کے حضور اور اس کو تحفہ کہہ رہا ہوں جو میں نماز پڑھ رہا ہوں؟ اچانک انسان کی توجہ اس طرف مبذول ہو جاتی ہے اور انسان اپنے نفس کا کھوج لگانے لگ جاتا ہے کہ کہیں یہ نیشکر کی جگہ سرکنڈے تو نہیں جنہیں میں سجا کر خدا کے حضور لے جا رہا ہوں اور آگے ان میں رس کوئی نہ نکلے ۔ کہیں ایسے پھل تو نہیں جو کھٹے ہیں یا جو گل سڑ چکے ہوں۔ ان کے اندر روح اور مواد تھوڑا ہے اور ضرر والی چیز اور نقصان والی چیز زیادہ ہے وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا ( النساء : ۱۴۳) پر تو یہ مضمون تو نہیں صادق آ رہا میری نماز پر کہ پھل والی چیز تو بہت تھوڑی ہے اور جو پھل کو نقصان پہنچانے والے اجزاء ہوتے ہیں وہ زیادہ ہو گئے ہوں ۔ پھر کھلیان کی طرف انسان کا تصور جا سکتا ہے۔ کبھی انسان اپنے کھیتوں کی چیزیں چاول گندم اور اس قسم کی چیزیں کھلیان سے نکالتا ہے اور کسی محبوب کے حضور تحفے کے طور پر پیش کرنے کے لئے لے جاتا ہے۔ اچانک اسے خیال آئے کہ یہ تو سب کیڑے نے کھا لیا تھا ۔ یہ تو سری نے تباہ کر