خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 245 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 245

خطبات طاہر جلد ۳ 245 خطبه جمعه ارمئی ۱۹۸۴ء نے مزید کہا کہ رب موسیٰ و ھارون ہم اس خدا کو رَبِّ الْعَلَمِینَ تسلیم کرتے ہیں جو موسیٰ اور ھارون کا خدا ہے۔قَالَ فِرْعَوْنُ امَنتُم بِهِ قَبْلَ أَنْ اذَنَ لَكُم بڑے بیوقوف لوگ ہو اور بڑے سرکش ہو کہ میری اجازت کے بغیر کسی اور خدا پر ایمان لاتے ہو؟ گویا فرعون کا یہ کہنا بتا رہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو رب العلمین سے بالا سمجھ رہا تھا، یہ کہہ رہا تھا کہ میرے سوا تو اور کوئی رب نہیں ہے جس کی تم اطاعت کرو اور مجھ سے پوچھے بغیر کسی ماتحت کی اطاعت کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے چنانچہ کہتا ہے کہ دیکھو فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ اس جرات اور اس سرکشی کی سزا بھی میں تمہیں دوں گا اگر میں تمہارا خدا نہیں ہوں تو سزا دینے کا حق مجھے کیسے حاصل ہو گیا؟ سزا دینے کی طاقت مجھے کیسے نصیب ہوگئی اور سزا جو اس نے تجویز کی وہ یہ تھی لَا قَطِعَ أَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ کہ ہم تمہارے ہاتھ کاٹ دیں گے اور پاؤں کاٹ دیں گے بازو کاٹ دیں گے اور پاؤں کاٹ دیں گے مخالف سمتوں سے اور کلیتہ بیکا ر کر دیں گے۔روزی سے محروم کرنے کے لئے اور انتہائی ذلت اور فلاکت کی حالت میں کسی قوم کو مبتلائے عذاب کرنے کے لئے اس سے بہتر اور کوئی طریق نہیں ہو سکتا۔ہاتھ کاٹنے سے مراد ہے روزی کے ذریعے کاٹ دیئے جائیں۔ایسے ذرائع اختیار کئے جائیں کہ کلیتہ ان کی اقتصادی حالت کو تباہ کر دیا جائے اور پاؤں کاٹنے سے مراد یہ ہے کہ جائے فرار نہ رہنے دی جائے ، وہ بھاگنا چاہیں تو ان کو نہ بھاگنے دیا جائے۔چنانچہ فرعون نے آگے جا کر اس بات کو واضح کر دیا کہ میں تمہیں، ایک اور آیت میں بڑے کھلم کھلا کہتا ہے کہ یہ تو تمہیں یہاں سے بھگانا چاہتا ہے اور میں نہیں بھاگنے دوں گا تو گویاہاتھ بھی کاٹ دوں گا اور پاؤں بھی کاٹ دوں گا قَالُوا إِنَّا إِلَى رَبَّنَا مُنْقَلِبُونَ کہ تم جو خدائی کا ، اس میں ہر جگہ جو جواب ہے انبیاء کا حیرت انگیز ہے، اس میں اپنے ایمان کا اثبات بھی ہے، تو کل علی اللہ بھی ہے ، صبر اور مظلومیت بھی ہے اور ایک جھوٹے خدا کا ایسا منہ توڑ جواب ہے کہ اس کے بعد اس کا کوئی جواب ممکن نہیں رہتا۔ان جادوگروں نے جو حضرت موسیٰ پر ایمان لے آئے تھے انہوں نے کہا کہ اچھا یہ سب کچھ تم کرو گے إنَّا إِلى رَبَّنَا مُنْقَلِبُونَ اگر تم یہ سب کچھ کرو گے تو ہم اپنے رب کی طرف لوٹ جائیں گے۔کیسا عظیم الشان جواب ہے اس پر غور کریں تو فصاحت و بلاغت کا یہ ایک معراج ہے۔