خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 361
خطبات طاہر جلد ۳ 361 خطبہ جمعہ ۶ جولائی ۱۹۸۴ء پر اس کی صفات میں بھی تبدیلیاں واقعہ ہوتی ہیں۔“ پس آج جماعت جس دور سے گزر رہی ہے بکثرت بلکہ ہرطرف سے پاکستان کے کونے کونے سے یہی اطلاعیں آرہی ہیں کہ خدا کے وہ مظلوم بندے خدا کے آستانے پر نئی روحیں لے کر حاضر ہو چکے ہیں ان کے اندر عظیم تبدیلیاں واقعہ ہو گئیں ہیں ایک بھی دیکھنے والا ایسا نہیں ، ایک بھی صاحب حال ایسا نہیں جس کی رپورٹ، جس کی اطلاع اس کے برعکس ہو، بچے کیا اور عورتیں کیا، جوان کیا اور بوڑھے کیا، سندھی کیا اور پنجابی کیا، پٹھان کیا اور بلوچی کیا ، تمام احمدی ایک عظیم تبدیلی کی حالت سے گزر کر نئی روحیں لے کر اپنے رب کے آستانے پر حاضر ہو چکے ہیں اور وہ پاک تبدیلیاں جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہاں ذکر فرمایا ہے وہ ظاہر ہو گئیں ہیں۔پس ان سب کو میں خوش خبری دیتا ہوں کہ اے خدا کے بندو! تم پر جو خدا ظاہر ہوگا وہ عام انسانوں کی طرح کا خدا نہیں ہوگا۔وہ عزیز اور قوی خدا ہے جو تم پر ظاہر ہونے والا ہے اور تم پر جلوہ دکھانے والا ہے اور کوئی دنیا کی طاقت اس تقدیر کو بدل نہیں سکتی۔آپ عزت و شرف کی خاطر پیدا کئے گئے ہیں اور عزت و شرف کے مقام پر فائز کئے جائیں گے، آپ قوتوں اور عزتوں کی خاطر بنائے گئے ہیں اور قوتوں اور عزتوں کے مقام پر فائز کئے جائیں گے یہ ہو کر رہے گا اور کوئی نہیں جو اس خدا کی تقدیر کو بدل سکے۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: دو جنازے ہوں گے ایک تو حاضر ہے، ہمارے ایک مخلص دوست رشید حیات صاحب کے داماد تھے جوانی میں فوت ہو گئے ہیں ، ( حضور نے دوران خطبہ انکے عزیزوں سے نو جوانوں کی بیماری کے بارہ میں پوچھا۔) عبدالوحید صاحب ہیں جو چھوٹی عمر میں ہی وفات پاگئے، تینتیس 33 سال کی عمر میں۔ایک ہماری پرانی محمودہ خاتون ہیں جو درد صاحب مرحوم کے خاندان کی۔نہایت ہی مخلص خاتون تھیں۔حکم حمید احمد اختر المنار والے ہیں ان کی والدہ محمودہ بیگم۔ان کی بڑی دیر بینہ خواہش تھی کہ میں ان کا جنازہ پڑھوں۔میں تو وہاں موجود نہیں تھا ایک مجبوری تھی اس لئے ان کی اس خواہش کو ملحوظ رکھتے ہوئے میں ان کا نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ان کے ساتھ ہی یہ اکٹھا ہوگا۔