خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 89 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 89

خطبات طاہر جلد ۳ 89 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء تلاش میں مارا مارا پھرے اور آخر پیاس سے نڈھال ہو جائے اور دل میں یہ کہے کہ چلو میں اب اسی جگہ واپس جاتا ہوں اور اسی سائے کے تلے لیٹ کر موت کا انتظار کرتا ہوں چنانچہ وہ اسی جگہ پر چلا جاتا ہے اور اس نیت سے سوتا ہے کہ اب میں کبھی آنکھ نہیں کھولوں گا۔آنحضرت ﷺ نے بڑا تفصیلی میں نقشہ کھینچا ہے، اپنی ہتھیلی اپنے سر کے نیچے رکھ لیتا ہے اور سو جاتا ہے جب اس کی آنکھ ھلتی ہے تو سواری کو وہیں پاتا ہے جہاں وہ پہلے کھڑی تھی اور اس پر اس کا کھانا بھی موجود ہوتا ہے اور اس کا پانی بھی موجود ہوتا ہے۔ایک مومن بندہ کی تو بہ پر خدا تعالیٰ کو جو خوشی ہوتی ہے وہ اس شخص کی خوشی سے بہت زیادہ ہے جو اس حالت میں اپنی سواری کو دوبارہ پالیتا ہے۔( صحیح مسلم کتاب التوبة باب في الحض على التوبة والفرح بھا) یہ ہیں تو اب کے معنی یعنی تو اب میں صرف تکرار نہیں بلکہ معنوں کی اتنی شدت ہے کہ کوئی انسان اپنی کیفیت کے مطابق سوچ بھی نہیں سکتا اور امر واقعہ یہ ہے کہ انسان کو اس خدا کی تو ابیت سے کوئی نسبت نہیں ہے۔آپ نے بھی کئی دفعہ لوگوں کی توبہ قبول کی ہوگی ، بچوں کی تو بہ ماؤں نے بھی قبول کی ہے، باپوں نے بھی قبول کی ہے، نوکروں کی توبہ قبول کر لیتے ہیں اور اپنے ماتحتوں کی توبہ قبول کر لیتے ہیں کبھی آپ کو اتنی خوشی ہوئی ہے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہزارواں حصہ بھی اس کا انسان خوشی محسوس نہیں کرتا جتنی حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ کو اپنے بندہ کی تو بہ سے خوشی ہوتی ہے۔پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے الترغیب والترھیب میں کہ رسول کریم نے فرمایا اگر تم گناہ پر گناہ کرتے چلے جاؤ یہاں تک کہ تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر تم تو بہ کرو تو بھی اللہ تعالیٰ تو بہ قبول کر سکتا ہے۔( الترغیب والترھیب کتاب التو به والزہد، ابن ماجہ کتاب الزهد باب ذکر التوبه ) یعنی تو بہ کے لئے نہ وقت کی قید ہے نہ یہ قید ہے کہ گناہوں کی مقدار کتنی ہے، کوئی حد نہیں ہے اسکی اور تو اب میں جو مبالغہ پایا جاتا ہے وہ ایسا مبالغہ ہے جو سو فیصدی درست ہے۔عربی میں جب مبالغہ کہتے ہیں تو صفت مبالغہ مراد ہے یعنی ایک معنوں کی حیرت انگیز شدت۔اللہ تعالیٰ کی صفات کے معاملہ میں مبالغہ ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ وہ لامحدود ہیں اس لئے تو ابیت بھی ایسی لامحدود