خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 83
خطبات طاہر جلد ۳ 83 خطبه جمعه ۱۰ فروری ۱۹۸۴ء خدا تعالیٰ کی صفت تو ابیت ( خطبه جمعه فرموده ۔ ارفروری ۱۹۸۴ء بمقام مسجد اقصی ربوه ) تشهد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: وَإِذَا جَاءَكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِايْتِنَا فَقُلْ سَلِّمُ عَلَيْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلَى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ أَنَّهُ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوءًا بِجَهَا لَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْ بَعْدِهِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (الانعام : ۵۵) إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيَّاتِهِمْ حَسَنَتٍ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتَابًا ۔ پھر فرمایا: (الفرقان: ۷۲۷۱) یہ دو آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں ان میں سے پہلی سورہ انعام کی آیت ہے اور اس کا ترجمہ یہ ہے کہ جب تیرے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں تو اے محمد (ع) توان تو ان سے کہہ دے کہ تم پر ہمیشہ سلامتی ہو تمہارے رب نے اپنے او پر یہ فرض کر لیا ہے کہ وہ تمہارے پر رحمت فرمائے گا اس طرح کہ تم میں سے جو کوئی بھی غفلت میں بدی کر بیٹھے پھر وہ اس صلى الله