خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 829 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 829

عیسائیت انصرانیت 45 کفار کا مومنوں سے غصہ کھانے کا فلسفہ کفار کے غصہ پر مومنوں کا ردعمل 365 366 عیسائی پادریوں کی تبلیغ میں قربانیاں 217 255 256`430'560'758 762 737 468 حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مهدی اشترا کی فلسفہ سے بیزاری سے یورپ میں عیسائیت معہود علیہ السلام پنپ رہی ہے اسلام کے خلاف عیسائی دنیا کی تیار کردہ سازشیں بائبل کی بگڑی ہوئی تعلیم کی ایک مثال انفرادی تبلیغ کا نتیجہ عیسائیوں میں قبول اسلام 462 504 515 261 بعثت ، دعوی آپ نے امتی نبی اور امام مہدی ہونے کا دعویٰ کیا مجھے جو کچھ ملا وہ آنحضور کی غلامی میں ملا آپ کی بعثت کا مقصد پاکستان میں عیسائی پادریوں کے مبارکباد کے خطوط اخباروں پہلے انبیاء سے آپ کی مشابہت میں چھپے کہ آپ نے ہمیں احمدیوں سے نجات دلوائی 273 آنحضور کے عاشق صادق اور امام مہدی آپ کے بیان فرمودہ عقائد جماعت احمد یہ 733 734 197 102 750 513 غ سیرت طیبہ غار حرا غار حرا کی عبادتوں نے سورج طلوع کیا آپ کی محبت الہی محبت الہی کے بارہ میں آپ کی تحریر 328 غالب ، مرزا اسد اللہ خان کے اشعار ناکردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملے داد دریائے معاصی تنک آبی سے ہوا خشک قاصد کے آتے آتے خط اک اور لکھ رکھوں پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق وہ آئیں مرگ شادی ہے نہ آئیں مرگ نا کامی کوچه محمد ، عرب ملک جانے کی تمنا اور تڑپ آپ کا عشق رسول کا واقعہ کیوں نہ چیخوں کہ یاد کرتے ہیں غانا کھانا تبلیغ کی مساعی کا ذکر چندوں میں اضافہ اور اخلاص میں ترقی خانا میں تعمیراتی کام کے لئے ایک واقف زندگی اوورسئیر کا تذکرہ دعا کے نتیجہ میں وسیع بارش ہوئی غصہ آنا 127 127 447 480 531 677 33 79 605 655 466 465 آنحضرت کے مقام کے بارہ میں آپ کی تحریر 112 498 11 105 498 آنحضور کے خلاف زبان درازی کرنے والوں کے لئے سخت کلمات کا استعمال 560 لیکھرام کی آنحضور کے بارہ میں بد زبانی برداشت نہ ہوئی 561 آپ نے ہمیں عشق رسول سکھایا عشق رسول پر مبنی آپ کی تحریرات اور اشعار 725 726 آپ کی تحریرات بابت عشق رسول کا پلڑ اتمام تحریروں کے مقابل پر بھاری ہوگا عرب قوم سے محبت کے بارہ میں آپ کی تحریرات 727 7 آپ کے مخالفین بھی آپ کے عشق رسول کے قائل ہیں 497 177 63 آپ کے عاشق رسول ہونے پر سر فضل حسین کی گواہی 725 آپ کی خدمت اسلام پر مولوی محمد حسین بٹالوی کی گواہی 724 آپ کی دعاؤں کا نہ ختم ہونے والا خزانہ آپ مجسم حلم تھے 286 170