خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 75
خطبات طاہر جلد ۳ 15 75 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء کہتے ہیں انتہائی باریک ذرہ کو جسے کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دیا گیا ہو اور قرآن کریم نے فرمایا کہ الْحُطَمَةُ میں ڈالے جائیں گے۔اب باریک ذرے میں انسان کس طرح ڈالے جاسکتے ہیں؟ کس طرح مبتلا کئے جا سکتے ہیں؟ تبھی فوراً فرمایا وَمَا اَدرِيكَ مَا الْحُطَمَةُ ن اے موجودہ انسانو! یعنی اس کا ایک ترجمہ یہ ہو سکتا ہے، تمہارا علم بڑا محدود ہے، اب ہم تمہیں کس طرح سمجھا دیں کہ ہم کیا کہنا چاہتے ہیں۔الْحُطَمَةُ کا کوئی تصور تم نہیں رکھتے جس الْحُطَمَة میں یہ تو میں ڈالی جائیں گی اس کا کوئی تصور کوئی Concept نہیں ہے تمہیں اس لئے ہم مزید کھول کر تمہاری خاطر بتانا چاہتے ہیں کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس میں آگ بند ہوگی ایسا ذرہ ہے جس سے آگ بھڑ کے گی اور وہ اتنی خوفناک آگ ہے کہ محض جسم کو جلا کر روح پر حملہ نہیں کرے گی بلکہ براہ راست دلوں کو مفلوج کر دے گی اور عَمَدٍ مُّمَدَّدَةٍ میں بند ہے۔اب اس لحاظ سے اس مضمون کے پھر آگے دو پہلو بن جاتے ہیں اور ان کا پہلی آیات سے بڑا دلچسپ اور گہرا تعلق ہے جو میں نے تلاوت کی تھی اسی سورۃ کی۔هُمَزَةٍ کا معنی ٹکڑے ٹکڑے کر دینا تو ڑ کر ریزہ ریزہ کر دینا کسی کو اور اس کے بعد خود مالدار ہوتے چلے جانا اور جس کو گرایا جارہا ہے جس کو خاک پر پھینکا جارہا ہے اس کو ذرہ حقیر اور بے معنی سمجھ کر یہ خیال کر لینا کہ ساری دولتیں تو میرے ہاتھ میں اب آچکی ہیں اب یہ میرا مقابلہ کس طرح کر سکتے ہیں ذرات جن کو میں نے پارہ پارہ کیا ہوا ہے۔بالکل یہی سوچ مغربی دنیا کی بھی ہے اور مشرقی دنیا کی بھی ہے۔عظیم الشان اشترا کی طاقتیں بھی یہ سمجھتی ہیں کہ ساری قوم کے اموال تو ہمارے چند ہاتھوں میں آچکے ہیں اور ہمارے کنٹرول میں آگئے ہیں جو اس وقت کسی Regime کے نام پر حاکم ہیں ان لوگوں پر ان کے پاس تو کچھ نہیں رہا۔یہ تو ذرات میں تبدیل ہو چکے ہیں لوگ اس لئے جب اموال ہمارے پاس ہیں تو یہ ہمارے مقابل پر کس طرح اٹھ سکتے ہیں اس لئے ہمیشہ کے لئے ہماریRegime ، ہماری طاقتیں، ہمارے گروہ جو اس وقت حکومت کر رہے ہیں جاری رہیں گے ہمیشہ کے لئے اور دن بدن انفرادی طاقت کم ہوتی چلی جائے گی اجتماعی طاقت کے مقابل پر اور مغربی دنیا کا بھی بالکل یہی نقشہ ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ساری دولتیں تو ہم نچوڑتے چلے جارہے ہیں۔جتنی زیادہ ڈیویلپمنٹ ہو رہی ہے ہم ان پسماندہ قوموں سے زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ آگے بھاگ رہے ہیں اور اموال سمٹ کر ہمارے