خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 775
خطبات طاہر جلد ۳ 775 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۸۴ء تقدیر بھی حرکت میں ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جیسا کہ فرماتا ہے: إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَأَكِيدُ كَيْدًا (الطارق : ۱۶ - ۱۷) یہ بھی کچھ تدبیریں کر رہے ہیں اور میں غافل نہیں ہوں میں بھی تدبیر کر رہا ہوں اور بالآخر یقیناً خدا ہی کی تدبیر غالب آئے گی ۔ کب آئے گی کتنی دیر میں آئے گی یہ میں ابھی آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ جب زیادہ تشویش کے دن آتے ہیں اللہ تعالی مسلسل مجھے خوشخبریاں عطا فرماتا ہے اور صرف مجھے ہی نہیں بلکہ ساری جماعت کو تمام دنیا میں کثرت کے ساتھ خوشخبریاں ملنی شروع ہو جاتی ہیں۔ جتنے بھیانک دن آتے ہیں اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشنی کے وعدے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آنے لگتے ہیں۔ یہ عجیب قسم کے واقعات ہیں جو عام دنیا کے حالات سے بالکل مختلف ہیں ۔ اگر یہ خواہیں نفسیاتی ہوں ، اگر یہ خوابیں نفس کے دھوکے ہوں ، یہ کشوف نفس کے دھوکے ہوں تو نفس کی کیفیت تو یہ ہے اور دنیا کے سارے ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ جتنا زیادہ مایوسی بڑھتی چلی جائے اتنا ہی ڈرانے والی خوا میں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔ جتنا زیادہ انسان تاریکیوں میں گھر جاتا ہے اتنا ہی زیادہ ہولناک مناظر وہ دیکھنے لگتا ہے، غموں کے مارے ہوئے مصائب کے ستائے ہوئے ، خوفوں میں مبتلا لوگوں کو Hallucination(فریب خیال ) شروع ہو جاتے ہیں امن کی حالت میں بیٹھے ہوئے بھی ان کو خطرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔ یہ صرف سچوں کی علامت ہوتی ہے کہ انتہائی تاریکی کے وقت میں خدا ان سے روشنی کے وعدے کرتا ہے اور ان کو روشنی کے نمونے دکھاتا ہے۔ انتہائی تکلیف کے وقت میں بھی خدا تعالیٰ ان کے ساتھ دل آرام باتیں کرتا ہے، ان کے دلوں کو راحت اور اطمینان اور سکون سے بھر دیتا ہے۔ پس جب حضرت محمد مصطفی پر مصائب کا انتہائی شدید وقت تھا تو وہی وہ دن تھے جب کہ اسلام کی فتح کے وعدے آپ سے کئے جارہے تھے۔ تعجب ہوتا ہے کہ ادھر جنگ احزاب کے وقت ایسا وقت آیا تھا قرآن کریم کے بیان کے مطابق کہ جیسے ایک زلزلہ آگیا ہو قوم کے اوپر اور وہ لوگ جن کے ایمان قوی نہیں تھے وہ سمجھتے تھے کہ اب موت سر پر آکھڑی ہوئی ہے اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ آنکھیں پتھرا گئی تھیں لوگوں کی اس وقت جب کہ بھوک کے مارے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے