خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 775 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 775

خطبات طاہر جلد ۳ 775 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء تقدیر بھی حرکت میں ہے اور اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں جیسا کہ فرماتا ہے: إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَاكِيْدُ كَيْدًا (الطارق : ۱۲ - ۱۷) یہ بھی کچھ تدبیر میں کر رہے ہیں اور میں غافل نہیں ہوں میں بھی تدبیر کر رہا ہوں اور بالآخر یقیناً خدا ہی کی تدبیر غالب آئے گی۔کب آئے گی کتنی دیر میں آئے گی یہ میں ابھی آپ کو کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن اتنا میں آپ کو بتا دیتا ہوں کہ جب زیادہ تشویش کے دن آتے ہیں اللہ تعالیٰ مسلسل مجھے خوشخبریاں عطافرماتا ہے اور صرف مجھے ہی نہیں بلکہ ساری جماعت کو تمام دنیا میں کثرت کے ساتھ خوشخبریاں ملنی شروع ہو جاتی ہیں۔جتنے بھیانک دن آتے ہیں اتنا ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے روشنی کے وعدے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آنے لگتے ہیں۔یہ عجیب قسم کے واقعات ہیں جو عام دنیا کے حالات سے بالکل مختلف ہیں۔اگر یہ خوا میں نفسیاتی ہوں، اگر یہ خوابیں نفس کے دھو کے ہوں، یہ کشوف نفس کے دھو کے ہوں تو نفس کی کیفیت تو یہ ہے اور دنیا کے سارے ماہرین نفسیات جانتے ہیں کہ جتنا زیادہ مایوسی بڑھتی چلی جائے اتنا ہی ڈرانے والی خوا ہیں آنی شروع ہو جاتی ہیں۔جتنا زیادہ انسان تاریکیوں میں گھر جاتا ہے اتنا ہی زیادہ ہولناک مناظر وہ دیکھنے لگتا ہے، غموں کے مارے ہوئے مصائب کے ستائے ہوئے ، خوفوں میں مبتلا لوگوں کو Hallucination(فریب خیال ) شروع ہو جاتے ہیں امن کی حالت میں بیٹھے ہوئے بھی ان کو خطرات دکھائی دینے لگتے ہیں۔یہ صرف بچوں کی علامت ہوتی ہے کہ انتہائی تاریکی کے وقت میں خدا ان سے روشنی کے وعدے کرتا ہے اور ان کو روشنی کے نمونے دکھاتا ہے۔انتہائی تکلیف کے وقت میں بھی خدا تعالیٰ ان کے ساتھ دل آرام باتیں کرتا ہے، ان کے دلوں کو راحت اور اطمینان اور سکون سے بھر دیتا ہے۔پس جب حضرت محمد مصطفی ﷺ پر مصائب کا انتہائی شدید وقت تھا تو وہی وہ دن تھے جب کہ اسلام کی فتح کے وعدے آپ سے کئے جارہے تھے۔تعجب ہوتا ہے کہ ادھر جنگ احزاب کے وقت ایسا وقت آیا تھا قرآن کریم کے بیان کے مطابق کہ جیسے ایک زلزلہ آ گیا ہو قوم کے اوپر اور وہ لوگ جن کے ایمان قوی نہیں تھے وہ سمجھتے تھے کہ اب موت سر پر آ کھڑی ہوئی ہے اور کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔آنکھیں پتھرا گئی تھیں لوگوں کی اس وقت جب کہ بھوک کے مارے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے تھے