خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 773
خطبات طاہر جلد ۳ 773 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء کیوں ان باتوں کو برداشت کرتے ہیں میں تو اس طرح ان حالات کو دیکھ رہا ہوں کہ جماعت احمدیہ کے خلاف ایک ظلم کیا جاتا ہے اور ساری قوم اس وقت خاموش رہتی ہے اور برداشت کر جاتی ہے اور کہتی ہے کہ کوئی حرج نہیں ان کے ساتھ ہی ہو رہا ہے نا اور چند دن کے بعد بعینہ ان کے ساتھ وہ سلوک بلکہ اس سے زیادہ شدت کے ساتھ وہ سلوک ہونے لگتا ہے۔کوئی ایسی بات نہیں ہے جس سے جماعت احمدیہ کومحروم کیا گیا ہو اور قوم کو وہ پھر عطا ہو گئی ہو۔آپ دیکھ لیں ایک دو سال کی جو تاریخ ہے اس کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں عملاً یہی سلسلہ چلا ہوا ہے اور اس کے نتیجے پھر بڑے بھیا نک ہوں گے اس سے تو کوئی انکار نہیں۔لیکن بہر حال اس وقت دشمن کا ارادہ یہ ہے کہ جماعت احمد یہ کوکلیتہ نہا کر دے، جماعت احمدیہ کے ہاتھ بھی جکڑ دے، جماعت احمدیہ کے پاؤں بھی جکڑ دے اور پاکستان سے جماعت احمدیہ کی مرکزیت کی ساری علامتیں مٹادے۔چنانچہ ہر گز بعید نہیں کہ اس سمت میں یہ آگے قدم بڑھائیں مرکزی انجمنوں کے خلاف بھی سازش کریں ہر قسم کی اور جماعت کے وجود جماعت کی تنظیم کے خلاف سازش کریں۔جہاں تک ان کا بس چلے گا انہوں نے کسی انصاف کے تقاضے کو لوظ رکھتے ہوئے آپ کے ساتھ کوئی رحم کا سلوک نہیں کرنا۔جہاں تک ان کا بس چلے گا انہوں نے ہر انسانی حقوق سے جماعت احمدیہ کومحروم کرنے کی مزید کوششیں کرنی ہیں اور یہ سلسلہ آگے تک بڑھانے کا ان کا ارادہ ہے ، کہاں تک بات پہنچے گی یہ ابھی تفصیل میں بیان نہیں کرتا لیکن مجھے علم ہے کہ ان کے ارادے کیا ہیں اس لئے میں جماعت کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ وہ یہ نہ سمجھ لیا کریں ہر دفعہ کہ ایک ظلم کے بعد ان کے دل ٹھنڈے پڑ چکے ہوں گے۔وہ یہ نہ سمجھ لیا کریں ہر دفعہ کہ ایک ستم کے بعد یہ راضی ہو جائیں گے کہ بس اب کافی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ یہ جتنا ظلم کرتے چلے جائیں گے اتنا زیادہ یہ آپ سے خوف محسوس کریں گے۔جتنا یہ ظلم کرتے چلے جائیں گے اتنی بیقراری بھی ان کی بڑھتی چلی جائے گی، بے چینی بھی بڑھتی چلی جائے گی کہ یہ ایک منتظم جماعت ہے ہم اس سے بے خوف اب نہیں رہ سکتے اس لئے مزید آگے بڑھیں گے اور چونکہ جماعت صبر اور شکر کے مقام پر فائز ہے اور ان کے سامنے سر جھکانے پر کسی قیمت پر بھی آمادہ نہیں ہے اس لئے اور بھی زیادہ ان کا غیظ وغضب بڑھتا چلا جائے گا۔یہ مزید تکلیف محسوس کریں گے کہ ہم نے تو ان کو اتنا دکھ پہنچایا ہے لیکن آگے سے ان لوگوں کا سر ہی نہیں جھک