خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 772 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 772

خطبات طاہر جلد ۳ 772 خطبه جمعه ۲۸ دسمبر ۱۹۸۴ء ہیں۔ لیکن جب حکومت خود جھوٹی ہو، بدکردار ہو چکی ہو ، خود مذہب کے نام سے کھیل رہی ہو تو پھر ان لوگوں سے ان کا دل بڑا لگتا ہے۔ اس قسم کے لوگ قصر شاہی تک دسترس رکھتے ہیں ، وہاں تک رسائی ہو جاتی ہے، ان کے ساتھ باقاعدہ مل کر منصوبے بنائے جاتے ہیں ۔ یہ حال ہو چکا ہے اس ملک کا اور اس حال میں صرف احمدی نہیں پیا جا رہا آپ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ سارا ملک پیسا جا رہا ہے۔ جن حقوق سے انہوں نے آپ کو محروم کیا ہے باقی قوم کو کب وہ حقوق دیئے ہیں ؟ امر واقعہ یہ ہے کہ جس دن سے جماعت احمد یہ کو ووٹ کے حق سے محروم کیا ہے سارا ملک ووٹ کے حق سے محروم ہے۔ جب جماعت احمد یہ پر پابندی لگائی جاتی ہے کہ تم نے اپنے دفاع میں کچھ نہیں کہنا ہم جو مرضی یک طرفہ تمہارے خلاف کہتے چلے جائیں گے تو باقی ملک پر بھی یہی پابندی لگانی پڑتی ہے پھر کیونکہ خدا کی تقدیر اسی طرح کام کر رہی ہے کوئی ایسا حق نہیں ہے جو جماعت سے چھینا گیا ہو اور خدا تعالیٰ نے باقی قوم کے پاس وہ حق رہنے دیا ہو۔ یہی لوگ پھر باقی قوم سے بھی حق چھیننے پر مجبور کر دیئے جاتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے جماعت کے پریس پر پابندی تھی ، جماعت کی کتا بیں ضبط ہو رہی تھیں یہ قانون بن گیا تھا کہ جماعت احمد یہ اگر اپنے دفاع میں کچھ کہے گی تو ان کو قید کیا جائے گا ان کو سزادی جائے گی، تین سال تک قید بھی ہو سکتی ہے اور جرمانہ بھی ہو سکتا ہے اور کچھ دن کے بعد ہی حکومت اس اور ہوسکتا کچھ ہی بات پر مجبور کر دی گئی خدا کی تقدیر کی طرف سے کہ سارے ملک کے خلاف بالکل یہی پابندی لگائے کہ الیکشن کے معاملہ میں ، ریفرنڈم کے معاملہ میں اگر کوئی بولا تو اس کی جائیدادیں ضبط اسکی عزتیں ضبط ، اس کی آزادی ضبط بلکہ اس سے زیادہ سخت زبان میں جماعت احمدیہ کے خلاف استعمال کی گئی تھی پاکستان کے ہر شہری کے حقوق ضبط کر لئے گئے ، کوئی چیز ان کے پاس نہیں رہنے دی گئی تو اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ اللہ کی تقدیر بھی ساتھ ساتھ ایک خاموش کام کرتی چلی جارہی ہے جن باتوں سے آپ کو محروم کیا جا رہا ہے ان باتوں سے ساری قوم بھی ساتھ محروم ہوتی چلی جارہی ہے، ایک ہی کشتی میں اکٹھے ہور ہے ہیں سارے لیکن فرق صرف یہ ہے کہ کچھ صرف اس لئے ظلم وستم کے نیچے پیسے جا رہے ہیں کہ وہ خدا کا نام لے رہے ہیں اس زمانہ میں ، وہ اللہ کی محبت اور اللہ کے رسول کی محبت کی باتیں کرتے ہیں اور باقی قوم کو اس جرم میں سزا دی جارہی ہے کہ وہ خاموشی سے