خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 763
خطبات طاہر جلد ۳ 763 خطبه جمعه ۲۸ / دسمبر ۱۹۸۴ء کے ماننے والے بھی محسوس کرتے ہیں اور مومنوں کے متعلق جس فرح کا ذکر قرآن کریم میں ہے وہ اسی وجہ سے ہے کہ خدا کی مددکو اپنے لئے آتا دیکھ کر ان کو خوشی اس بات کی ہوتی ہے کہ ہم عاجز اور حقیر بندے ہیں، ہم تو اس لائق نہیں تھے کہ اللہ اپنے تعلق کا ثبوت دے ہمارے ساتھ لیکن کیسا عالی شان خدا ہے ! ہمارا کیسا پیار کرنے والا محبت کرنے والا خدا ہے کہ ہم جیسے حقیر اور عاجز بندوں کے لئے وہ ظاہر ہوا یہ خوشی ضرور پہنچتی ہے لیکن اس کے باوجود جب وہ دکھ پھیلتے ہیں ساری دنیا میں ، جب لوگ مصیبتوں میں مبتلا ہوتے ہیں تو سب سے زیادہ تکلیف پھر خدا کے وہی بندے محسوس کرتے ہیں جن کی خاطر اللہ تعالیٰ کے عذاب آیا کرتے ہیں۔تو قوم کے لئے بھی دعا کریں اور ان مسلمان ممالک کے لئے بھی دعا کریں جو بد قسمتی سے لاعلمی میں آلہ کار بنے ہوئے ہیں بعض دشمنان اسلام طاقتوں کا اور پھر کل عالم کے لئے بھی دعا کریں کیونکہ یہ جو حالات ہیں جب یہ زیادہ آگے بڑھیں گے تو ہمارا ایک خدا ہے جو غیرت رکھنے والا خدا ہے جو بعض اوقات جب حد سے زیادہ اس کے پیاروں کو ستایا جائے تو بڑے جلال کے ساتھ دنیا پر ظاہر ہوا کرتا ہے اور جہاں تک حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شان میں گستاخی کا تعلق ہے یہ ملک یعنی پاکستان تو حد سے بڑھ چکا ہے یعنی کبھی دنیا میں کسی نے کوئی حکومت ایسی نہیں دیکھی ہوگی جس کے سر براہ مخش کلامی کو اپنے لئے عزت افزائی کا موجب سمجھیں، تکذیب کو اپنے لئے ایک عظمت کا نشان بنالیں اور بڑے فخر کے ساتھ افترا پردازی کریں، جھوٹ بولیں، جھوٹ کو شائع کریں اور پھر خدا کے پاک بندوں پر گند اچھالیں اور پھر قوم سے داد لینے کی خواہش کریں۔ایسے واقعات تو کبھی دنیا میں کسی حکومت کی طرف سے رونما نہیں ہوئے ہوں گے سوائے قدیم زمانوں کے فرعون جن کے قصے ہم سنا کرتے تھے لیکن سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اس جدید زمانے میں یہ واقعات ہو سکتے ہیں۔جو سازش ہے احمدیت کے خلاف وہ بہت گہری ہے اور ابھی کلیۂ پوری کھل کر آپ کے سامنے بھی نہیں آئی۔جو واقعات آپ کے سامنے آچکے ہیں انکی بھی کہنہ کو آپ میں سے بہت سے نہیں پہنچ سکتے۔ان کو معلوم نہیں ہوسکتا دیکھنے والوں کو کہ آخر یہ کون سی منزل ہے جس کی طرف یہ واقعات ایک جلوس کی شکل میں روانہ ہورہے ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ احمدیت کی جڑوں پر حملہ کیا گیا ہے اس