خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 746 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 746

خطبات طاہر جلد ۳ 746 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۸۴ء نے ایک عظیم الشان تقریر کی ہے ایک ترکیب سوچی ہے جس کے نتیجہ میں ان کا خیال ہے کہ سارے مسلمان اب کلمہ مٹانے پر آمادہ ہو جائیں گے اور ترکیب ان کو یہ سوجھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر ( ان کے بیان کے مطابق ) کلمہ مٹا دیا پس یہ سنت رسول ہے کلمہ مٹانا اور اس سے یہ نتیجہ نکالا کہ چونکہ وہ کلمہ بے محل تھا اس لئے سنت رسول سے ثابت ہوا کہ جہاں بھی بے محل کلمہ دیکھو اس کو مٹا دو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں : ع آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب اس ایک بات میں بھی سو حجاب حائل ہیں تب جا کر ایسی بات کی جاسکتی ہے۔ جاہل ہے اور جہل مرکب ہے، ایک اندھیرے کا پردہ نہیں بلکہ پردے پر پردے پڑے ہوئے ہیں ۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ وہاں تو کلمے مٹانے یا کلمہ رکھنے کی بحث ہی کوئی نہیں تھی۔ تاریخ اسلام کو یہ توڑ مروڑ کر اس کا حلیہ بگاڑنے سے باز نہیں آرہے۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ مشہور و معروف ہر بچے بچے کے علم میں ہے اور ان کے علما کو یہ پتہ نہیں کہ وہ قصہ کیا تھا ۔ وہاں تو یہ بات چل رہی تھی کہ حضرت اقدس محمد مصطفیٰ لال کا معاہدہ ہورہا تھا کفار سے صلح کا اور تحریر میں یہ بات لکھی گئی کہ یہ معاہدہ مکہ کے قریش کے درمیان اور محمد رسول اللہ کے درمیان ہے کلمہ کی تو کوئی بحث نہیں تھی۔ اس پر وہ جو نمائندہ کفار مکہ کا آیا ہوا تھا اس نے کہا کہ دیکھو اگر محمد رسول اللہ کو ہم تسلیم کر لیں کہ محمد کی حیثیت رسول اللہ کی ہے تو ہم اتنے پاگل تو نہیں ہیں کہ تمہیں حج سے روکنے آئیں، تمہاری مخالفتیں کریں، تمہارے مقابل پر ایسا طوفان بدتمیزی بپا کر دیں تو کم سے کم تھوڑی سی عقل کا حق تو ہمیں دو ۔ ہم اس لئے مخالفت نہیں کر رہے ہیں کہ یہ رسول اللہ ہے، ہم اس لئے مخالفت کر رہے کہ یہ رسول اللہ نہیں ہے اس لئے ہم سے وہ معاہدہ کرو گے تو پھر دونوں طرف کی بات برابر چلتی ہے ۔ بحیثیت محمد ہم معاہدہ کرنے کیلئے تیار ہیں بحیثیت رسول اللہ اگر ہم معاہدہ کریں گے تو خود اپنی ہلاکت کا سامان پیدا کر رہے ہوں گے اپنی تحریر سے یہ ثابت کر دیں گے کیونکہ ہمارے بھی دستخط ہونے ہیں گویا ہم اپنی تحریر سے ثابت کر دیں گے کہ اللہ کا رسول سمجھتے ہوئے ہم نے اس کی مخالفت کی ہے۔ ایک نہایت معقول بات تھی اس کو بڑی عمدہ بات سوجھی ہے اس کے نقطہ نگاہ سے اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس لئے لفظ ” رسول اللہ کاٹنے کی اجازت دے دی کہ آپکی اپنی تحریر نہیں تھی دشمن نے اس پر دستخط