خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 745 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 745

خطبات طاہر جلد ۳ 745 خطبه جمعه ۲۱ دسمبر ۱۹۸۴ء بڑھ بڑھ کر مٹانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اتنے اندھے ہیں کہ انکو یہ سمجھ نہیں آرہی کہ کلمہ سے ایک ایسی محبت مسلمان کو ہے کہ جاہل سے جاہل آدمی کے دل میں بھی کلمہ کی محبت لکھی ہوئی ہے خواہ وہ فاسق فاجر ہو، خواہ وہ رشوتیں لینے والا یا رشوتیں دینے والا ہو ظلم سے مال لوٹنے والا ہو، عبادت کے کبھی قریب نہ پھٹکا ہو، سارا دن ذکر الہی کی بجائے گندی گالیاں دیتا ہولیکن نام اگر مسلمان ہے اس کا تو کلمہ سے اس کو محبت ہے ۔ وہ شیعہ ہو یا سنی یا خارجی ہو کوئی نام بھی اس کا رکھ لیں کلمہ ایک ایسی بنیادی حقیقت ہے جس سے ہر مسلمان طبعا اور فطرتاً پیار کرتا ہے۔ چنانچہ یہی نتیجہ اس کا نکلا وہ اپنی قوم کے ہاتھ پر اس میں سے ہونے کے باوجود نبض پر ہاتھ نہیں رکھ سکے اور نتیجہ یہ نکلا کہ وہ ایک غلط فیصلہ کر بیٹھے اور کلمہ کو مٹانے کی جوں جوں تحریک آگے بڑھ رہی ہے اس کا شدید رد عمل ان علماء کے خلاف پیدا ہو رہا ہے۔ چنانچہ تازہ اطلاعات کے مطابق چنیوٹ کے عوام نے جو ہماری مخالفت کا گڑھ ہے ، ہمیشہ سے چلا آیا ہے بلکہ اس بات پر فخر کرتا ہے کہ سب سے زیادہ شدید مخالف شہر ہے۔ چنیوٹ کے عوام میں مولویوں کی کلمہ مٹانے کی تحریک کے خلاف شدید ردعمل پیدا ہوا اور اس پر علما نے چنیوٹ میں یہ باتیں کیں کہ ہم ۔ کہ ہم سے منصوبہ بندی میں غلطی ہو گئی اور وہ غلطی یہ تھی کہ ہم نے پہلے لوگوں کو کلمہ مٹانے کے اوپر پوری طرح آمادہ نہیں کیا۔ یہ تحریک پہلے چلانی چاہئے تھی کہ کلمہ مٹانے میں حرج کوئی نہیں اور وہ احترام جو کلمہ کا مسلمان کے دل میں تھا پہلے اسے مٹانا چاہئے تھا پھر جا کر یہ تحریک چلاتے تو بہت کامیاب ہوتے اب اس کو اگر جہل مرکب نہ کہیں تو اور کیا کہہ سکتے ہیں یعنی احمدیوں سے کلمہ چھینے کی خاطر ہر مسلمان کے دل سے کلمے کا احترام مٹانا پڑے گا اور اس کیلئے یہ تیار ہو چکے ہیں ۔ اس سے بڑی ہولناک تباہی اور کیا ہو سکتی ہے؟ اس سے زیادہ خوفناک روحانی خود کشی اور کیا ہوسکتی ہے؟ سوائے اس کے کہ روحانی آنکھ کا اندھا ہو اتنی سی بات بھی انسان کو نظر نہ آئی یہ کیسے ہو سکتا ہے ! بہر حال نہ صرف یہ کہ یہ تیار ہیں اس کام کیلئے بلکہ ایسے دلائل تجویز کر رہے ہیں کہ جن کے نتیجہ میں ان کو یقین ہے کہ آخر مسلمان کے دل سے کلمہ کی محبت اٹھ جائے گی اور جو احترام ذرا سا باقی رہ گیا ہے، جو اوٹ باقی رہ گئی ہے جو حیا اور شرم کا پردہ ہے وہ بھی تار تار ہو جائے گا اور ایک ان کے علما میں سے جو بظاہر ان میں سب سے زیادہ پڑھے لکھے ہیں اور پی۔ ایچ۔ ڈی۔ بھی کہلاتے ہیں انہوں