خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 744 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 744

خطبات طاہر جلد۳ 744 خطبه جمعه ۲۱ / دسمبر ۱۹۸۴ء قدم اٹھاتا ہے اور دور تک نظر کرتا ہے راستہ پر، جس راستہ کو بند پائے اس سے وہ پہلے ہی گریز کر جاتا ہے ، جس راستہ کو گڑھوں یا خطرات میں ختم ہوتا دیکھتا ہے اس سے پہلے ہی ہٹ کر ایک نئی راہ تجویز کرتا ہے۔لیکن اندھے بے چارے کا حال یہ ہے کہ جب تک کسی دیوار سے ٹکر نہ لگ جائے یا کسی گڑھے میں جانہ پڑے اس بے چارے کو کچھ پتہ نہیں لگتا کہ میں کس راہ پر چل رہا ہوں اور بعض دفعہ عین کنارے پر جا کر پتہ چلتا ہے، بعض دفعہ کنارے پر جا کر بھی پتہ نہیں چلتا۔جب ہلاکت اس کو گھیر لیتی ہے اس وقت اس کو پتہ چلتا ہے کہ میں نے غلط اقدام کیا تھا۔بعینہ یہی صورت حال ہر زمانے میں خدا کے بیچوں کو جھٹلانے والوں کے ساتھ پیش آتی رہی ہے ایک بھی استثنا آپ اس میں نہیں دیکھیں گے۔جس طرح انبیاء کی سنت یقینی اور قطعی ہے انبیاء کے مخالفین کی سنت بھی سو فیصد یقینی اور قطعی ہے اور کبھی کوئی تبدیلی آپ کو اس میں دکھائی نہیں دے گی۔ایک ہی طرح کے دعاوی کرتے ہیں، ایک ہی طرح کی مخالفت کے ڈھنگ اختیار کرتے ہیں، اس سے پہلے لوگ وہ ڈھنگ اختیار کر چکے ہوتے ہیں اور نا کام ہو چکے ہوتے ہیں لیکن وہ وہی چالاکیاں دوبارہ دہرانے کی کوششیں کرتے ہیں اس امید میں کہ شاید اس مرتبہ ہم کامیاب ہو جائیں۔یہ اندھے ہیں جن کی نہ ماضی پر نظر ہے نہ مستقبل پر نظر ہے۔اندھا تو نہ آگے دیکھ سکتا ہے نہ پیچھے دیکھ سکتا ہے۔تو بعینہ یہی حال انبیاء کو جھٹلانے والی قوموں کے ہو جاتے ہیں۔نہ وہ تاریخ سے سبق حاصل کر سکتے ہیں یعنی ماضی میں مڑ کر دیکھ نہیں سکتے اور نہ وہ ایسا منصوبہ بنا سکتے ہیں جو ان کے مستقبل کو روشن کر دے۔ان کا اگلا قدم بھی ہلاکت کا قدم ہے اور ان کا پچھلا قدم بھی ہلاکت کا قدم ہے اور عقلوں سے پھر عاری ہو جاتے ہیں۔یہی حال اس زمانے میں ہم نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جھٹلانے والوں کا پایا اور جو کچھ شکوک پہلے رہ گئے تھے باقی وہ اس تحریک نے پوری طرح مکمل کر دئیے۔اب کا کوئی ایسا رنگ نہیں ہے جو مخالفین انبیاء کا آپ کو تاریخ مذاہب میں نظر آئے جو انہوں نے اپنے اوپر چڑھا نہ لیا ہو۔کوئی ایسا ظلم کا داغ نہیں ہے اور کوئی سرخ نشان نہیں ہے ظلم و ستم کا جو انہوں نے جماعت احمدیہ کے اوپر لگانے کی کوشش نہ کی ہو۔ابھی حال ہی میں کلمہ مٹانے کی ایک تحریک چلائی گئی جو آج کل بھی بڑے زور وشور سے جاری ہے اور مطالبات ہورہے ہیں کہ اگر حکومت نہیں مٹائے گی تو ہم مٹادیں گے اور حکومت ان سے