خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 739 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 739

خطبات طاہر جلد ۳ 739 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء لیجئے کبھی کسی فرعون کے زمانہ میں یہ واقعہ پیش نہیں آیا۔نہ حضرت موسیٰ کے زمانہ میں آیا ہے نہ اس کے علاوہ کسی اور تاریخ میں ذکر ملتا ہے اور ہے بھی یہ مستقبل کا صیغہ اور قرآن کی بات تو لازماً پوری ہونی ہے فرمایا یہ گیا ہے وَيُقَوْ إِنِّى أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ التَّنَادِن اور التَّنَادِ کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جو کسی ظالم کے خلاف دوسری قوموں کو اپنی مدد کیلئے پکارتے ہیں۔یہ تو بہت ہی خوفناک منظر ہے اس لئے تمہیں قرآن پر یقین ہو یا نہ ہو تم خدائی تقدیر کے قائل ہو یا نہ ہو جماعت احمد یہ تو خدا کی ہستی پر اس طرح یقین رکھتی ہے کہ دن کے سورج پر اس سے کم یقین رکھتی ہے اور اپنے وجود پر اس سے کم یقین رکھتی ہے۔ہم جانتے ہیں کہ اگر کوئی قابل یقین قابل ایمان ہستی ہے تو صرف خدائے وحدہ لاشریک ہے اور ہر وہ دوسری چیز جو ایمان کے لائق ہے وہ اس کے واسطے سے ایمان کے لائق ہے۔وہی ہے جو واحد ہے، لا یموت ہے،احد ہے اور غالب ہے اور قہار ہے اور غیور ہے اور منتظم ہے۔ہم ایک ایسے زندہ خدا پر ایمان رکھتے ہیں جس کے مقابل پر کوئی بھی چیز غالب نہیں آسکتی اس لئے تم اس آواز کو سنو یا نہ سنو ہم اس آواز کو لازما تمہیں پہنچائیں گے کہ خدا کی اس تقدیر سے ڈرو جب کہ زمین میں تمہارے خلاف الثنادِ کی سی کیفیت پیدا ہو جائے اور سارا ملک ایک دوسرے کو تمہارے ظلم اور جبر کے خلاف آواز دینے لگے کہ اٹھو اور اس ظالم کو چکنا چور کر کے رکھ دو، اس کو ملیا میٹ کر کے رکھ دو اور اگر یہ بس نہ جائے تو قو میں دوسری قوموں کو اپنی طرف بلائیں۔یہ تقدیر الہی ہے تو لازماً پوری ہو کر رہے گی۔آج نہیں تو کل تم اس کا نمونہ دیکھو گے کیونکہ خدا تعالیٰ کے ہاں دیر تو ہے اندھیر کوئی نہیں۔وہ ڈھیل تو دیا کرتا ہے مگر جب اس کی پکڑ آیا کرتی ہے تو وَلَاتَ حِيْنَ مَنَاصٍ (ص:۴) کوئی بھاگنے کی جگہ باقی نہیں رہتی۔ایسا کامل گھیرا پڑ جاتا ہے کہ سوائے حسرت و نامرادی کے اور کچھ بھی انسان کے قبضہ قدرت میں نہیں ہوتا۔اس وقت وہ یاد کرتا ہے کہ کاش ! میں اس سے پہلے اس دائرے سے باہر نکل چکا ہوتا مگر نکلنے کی کوئی راہ باقی نہیں۔لیکن افسوس ہے ان قوموں پر جو ایسے وقت تک انتظار کریں کہ جب خدا کی تقدیر ایسی غضبناک ہو چکی ہو تو ان سربراہوں کے ساتھ قوموں پر بھی خدا کی ناراضگی کا عذاب ٹوٹ پڑے۔ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے پاک وطن کو ہمارے پیارے وطن کو ان شدید مصائب اور مظالم سے نجات بخشے کیونکہ جیسا کہ میں نے بار بار یہ کہا ہے ہماری ایک حیثیت تو عالمی