خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 738 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 738

خطبات طاہر جلد ۳ 738 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء رسول کی محبت یا کچی غیرت رکھتے ہوں کیونکہ ان کا عمل ان غیرتوں کو جھٹلا رہا ہے کوئی بھی واسطہ نہیں رہنے دیتا ان کے ساتھ اس لئے پھر کس کا واسطہ ہم تمہیں دیں ؟ کس کے خوف سے ہم تمہیں ڈرائیں؟ اُس کے خوف سے جس کا خوف بالائے طاق رکھنے کے بعد تم ان حرکتوں پر آمادہ ہوئے؟ اسکی محبت کا واسطہ دیں جسکی محبت سرے سے تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوئی ؟ لیکن پھر بھی تم مانو یا نہ مانو قرآن کا کلام جس طرح پہلے سچا تھا اس طرح آج بھی سچا ہے جس طرح آج سچا ہے اس طرح کل بھی سچا ثابت ہو گا۔فراعین کے مظالم اور بڑے بڑے بد کردار اور متکبرین کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم کئی قسم کے آفات کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے ایسے لوگوں کو گھیر لیا جو زمینی بھی تھیں اور سماوی بھی تھیں۔کچھ ایسی بھی تھیں جن میں بندوں کا دخل نہیں تھا محض وہ آسمان سے نازل ہوئیں یا زمین سے پھوٹیں اور کچھ ایسی بھی تھیں جن میں بندوں کا بھی دخل تھا اور بندوں کو استعمال کیا گیا ان کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کریم آئندہ کے بارہ میں ایک ایسی پیشگوئی فرماتا ہے جو بعینہ ان حالات پر پوری لگتی ہوئی دکھائی دیتی ہے کہ کہنے والے کی زبان سے قرآن کریم یہ کہلواتا ہے: وَيُقَوْمِ اِنِّي أَخَافُ عَلَيْكُمْ يَوْمَ الثَّنَادِ ( المؤمن :۳۳) کہ اے میری قوم میں تم پر ایک ایسے عذاب سے بھی ڈرتا ہوں جو تمہیں آلے گا جسکی شکل صورت یہ ہوگی کہ اہل وطن ایک دوسرے کو تمہارے خلاف مدد کے لئے پکاریں گے۔التناد اس کو کہتے ہیں جب شور پڑ جائے اور واویلا شروع ہو جائے اور وہ لوگ جو پنجاب کے دیہات سے خصوصاً واقف ہیں ان کو علم ہے خصوصاً جھنگ وغیرہ کے علاقے میں اگر رات کو کوئی چوری ہو جائے یا کوئی اور آفت پڑ جائے تو لوگ، زمیندار چھتوں پر نکل جاتے ہیں اور واویلا شروع کر دیتے ہیں اور سارے ملک کو اپنی مدد کے لئے پکارتے ہیں ظالم کے خلاف۔چنانچہ وہ آواز جہاں پہنچتی ہے پھر وہ آگے آواز چل پڑتی ہے پھر اس سے آگے چل پڑتی ہے پھر اس سے آگے چل پڑتی ہے اور جہاں جہاں وہ آواز پہنچتی ہے۔لوگ گھروں سے نکل کر جو ان کے ہاتھ میں آتا ہے وہ لے کر نکل کھڑے ہوتے ہیں کہ ایک مظلوم کی مدد کے لئے چلیں تو اس کو کہتے ہیں یوم التناد معلوم ہوتا ہے عرب بھی اس دستور سے واقف تھے کیونکہ یہ عربی محاورہ استعمال کیا گیا ہے تو ایسا واقعہ گزشتہ کسی فرعون کے زمانہ میں تو پیش نہیں آیا۔آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ