خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 737 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 737

خطبات طاہر جلد ۳ 737 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء ہے، ایک ہی کلمہ ہے ، ایک ہی زبان ہے ، ان کی چھاتیوں سے کیوں نہیں لگتے ؟ ان کو کیوں اپنی چھاتیوں سے نہیں لگاتے ان کو کیوں پاؤں تلے روندتے ہی روند تے چلے جارہے ہو؟ کوئی ایک کل تو ہو جو سیدھی ہو، اول سے آخر تک محض تاریکی ہی تاریکی ہے اس بیان میں، ضیاء اور نور کا کوئی بھی پہلو باقی نہیں۔ صلى الله علي اللہ تعالیٰ ایک غیرت رکھتا ہے اپنے پیاروں کے لئے ، اللہ تعالیٰ مظلوموں کی حمایت کیا کرتا ہے خصوصا ان مظلوموں کی جن کے متعلق خدا جانتا ہے کہ سوائے اس کے کہ میری خاطر یہ دکھ دیئے جارہے ہیں اور کوئی انہوں نے جرم نہیں کیا اس لئے اگر خدا کا کوئی ایمان اور کوئی یقین دل میں باقی ہے تو خوف رکھو اور جانو کہ تم کہاں تک پہنچ چکے ہو اور کس حد سے آگے بڑھ رہے ہو لیکن مجھے تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ خدا کی کوئی غیرت ، خدا کا کوئی خوف باقی نہیں رہا۔ اگر غیرت ہوتی تو فرضی طور پر جن کے اوپر الزام لگائے جا رہے ہیں کہ نعوذ باللہ من ذلک یہ گستاخ رسول ہیں ۔ ان کے اوپر تو تمہارے غصے جوش پکڑ رہے ہیں اور غیظ و غضب کی ہنڈیاں اہل رہی ہیں لیکن وہ جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہاں ہم حضرت محمد مصطفی ﷺ کو نعوذ باللہ من ذلک چھوٹا سمجھتے ہیں ان کی چھاتیوں سے لگ رہے ہو۔ وہ ہندو ہیں جو خدا کے بھی قائل نہیں یعنی اس خدا کے قائل نہیں جو قرآن پیش کرتا ہے۔ انہوں نے فرضی جھوٹے خدا ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں بنائے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی فوت ہو جائے تو کئی کئی دن سوگ منائے جاتے ہیں ملک میں ، ان سے مصافحہ کرنے میں فخر کیا جاتا ہے ۔ وہ عیسائی جو آنحضرت کو مفتری قرار دیتے ہیں ان کی چھاتیوں سے لگتے ہو، ان کے ہاتھ کی روٹی کھا۔ ہو، ان سے خیرات مانگتے ہو اور فخر سے اعلان کرتے ہو کہ ان عیسائی ممالک نے ہمیں اتنی خیرات دینے کا اعلان کر دیا ہے تو کہاں جاتی ہے اس وقت غیرت محمد مصطفیٰ ؟ غیرت کے اظہار کے لئے عشاق رسول ہی رہ گئے ہیں۔ جو دشمنان رسول ہیں، جو کھلم کھلا گالیاں دیتے اور جھوٹا اور مفتری سمجھتے ہیں ان کے لئے تمہاری کوئی غیرت جوش میں نہیں آتی اور جو خدا کے دشمن ہیں وہ ان کی چھاتیوں سے کبھی جائے لگتے ہو وہ چینی جو معززین آتے ہیں وہ تو خدا کی ہستی کے ہی قائل نہیں ، کوئی غیرت نہیں ہے خدا کی؟ صلى اس لئے ان باتوں کے پیش نظر مجھے یہ یقین کرنے کی کوئی بھی وجہ نہیں کہ ایسے لوگ خدایا