خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 731
خطبات طاہر جلد ۳ 731 خطبه جمعه ۱۴ / دسمبر ۱۹۸۴ء گئے؟ آپ کی فوجیں کہاں گئیں ؟ آپ کی پولیس کہاں گئی ؟ جب کہ لاکھوں کا مجمع نہایت ہی غلیظ گالیاں دے رہا تھا آپ کو اور آپ کے چیلے چانٹوں کو مجال تھی اس وقت حکومت کے کسی ادارے کی قریب بھی پھٹک سکے۔صرف ان شریف انسانوں پر آپ کا ظلم چل سکتا ہے جو اس لئے خاموش نہیں کہ وہ بزدل ہیں، وہ تو اپنی جانیں فدا کرنے کے لئے بے تاب بیٹھے ہوئے ہیں ، اس لئے خاموش ہیں کہ خدا نے ان کو خاموشی کا حکم دیا ہوا ہے اس لئے صبر دکھا رہے ہیں کہ قرآن اور محمد مصطفی ﷺ کی سنت نے ان کو صبر پر مجبور کر رکھا ہے۔آپ کے لئے تو کوئی سنت نہیں کیونکہ اگر سنت محمد مصطفی کے پیش نظر ہوتی تو وہ تو حیرت انگیز صبر اور حیرت انگیز حوصلے اور حیرت انگیز اخلاق کے اعلیٰ معیار پیش کرتی ہے۔ایسے معیار جو اس سے پہلے کبھی کسی انسان نے نہیں دیکھے تھے اور نہ کبھی بعد میں قیامت تک کوئی انسان ایسے معیار دیکھ سکتا ہے۔صلى الله حظ عظیم پانے والے تھے وہ لوگ جن کو محمد مصطفی ﷺ نے تربیت دی۔عجیب و غریب واقعات رونما ہورہے تھے۔وہ عشاق جو آنحضرت ﷺ کے سامنے کھڑے ہوتے تھے اور جنگ کی شدت کے دوران اپنے ہاتھ حضور اکرم کے چہرہ کے سامنے کر دیا کرتے تھے کہ کوئی تیر آپ کے چہرہ مبارک کو زخمی نہ کر سکے اور ان کے ہاتھ چھلنی ہو جایا کرتے تھے۔( صحیح بخاری کتاب المناقب باب مناقب ابی طلحہ ) ان لوگوں نے آنحضرت علیہ کے خلاف گستاخیاں سنیں اور ایک ہاتھ نہیں اٹھا ان گستاخیوں کے خلاف کیونکہ حضرت محمد مصطفی علی نے ان کو روک رکھا تھا؟ ان کو قتل وصبر کی تلقین کر رکھی تھی۔وہ سب سے بڑا گستاخ رسول عبد اللہ بن ابی بن سلول جس نے نعوذ باللہ من ذلک آنحضرت ﷺ کے متعلق ایسے الفاظ کہے ایک مسلمان کی زبان پر آتے نہیں، بیان کرنے کی کوشش بھی کی جائے اور مورخین نے لکھے بھی ہیں اور کتابوں میں لکھنے بھی پڑتے ہیں لیکن دل نہیں چاہتا کہ ان کو دو ہرایا جائے اس موقع پر یہ درست ہے کہ باپ کی غیرت نہیں لیکن باپ سے بڑھ کر حضرت محمد مصطفی ﷺ کی غیرت نے عبداللہ کے بیٹے کے دل میں جوش مارا اور وہ آنحضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے یہ عرض کیا یا رسول اللہ ! برداشت سے بڑھ گیا ہے یہ معاملہ میرے باپ نے یہ ذلیل حرکت کی۔اجازت دی جائے کہ میں اسے قتل کروں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں یہ اجازت میں تمہیں نہیں دوں گا۔( صحیح بخاری کتاب التفسیر باب قولہ ذالک بانهم آمنوا ثم كفروا۔۔) یہ ہے سنت محمد مصطفی۔