خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 67
خطبات طاہر جلد ۳ 67 خطبه جمعه ۳ فروری ۱۹۸۴ء دینا اور مضبوط تعلقات کے لئے بھی ان معنوں کو استعمال کیا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی توڑ دے اور قوموں کو متفرق کر دے یا گروہوں کو متفرق کر دے اس کے لئے بھی لفظ هُمَزَةٍ معنوی طور پر استعمال ہو سکتا ہے۔ذلیل اور رسوا کر دینا، بے طاقت کر دینا، بے حیثیت کر دینا، ٹکڑے ٹکڑے کر دینا، مخالفت کرنا مخفی پرو پیگنڈہ کرنا ، ظاہری پرو پیگنڈہ کرنا ، فحشاء کو اور بری باتوں کو پھیلانا ، بچے اور جھوٹے دونوں قسم کے الزام اور دونوں قسم کی فحشاء هُمَزَةٍ اور تُمَزَۃ میں داخل ہیں۔یہ وہ برائیاں ہیں جب یہ اکٹھی ہو جاتی ہیں تو اس وقت ایک بہت ہی خوفناک عذاب کے لئے انسان کو اب تیاری کرنی چاہیئے۔یہ وہ برائیاں ہیں کہ جب یہ قومی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں تو قرآن کریم یہ خبر دیتا ہے کہ اس کے بعد ایسی قوموں کے لئے ایک بہت ہی درد ناک عذاب مقدر ہے اور اس عذاب کا نقشہ اگلی آیات میں کھینچا گیا ہے۔لیکن اس سے پہلے کہ میں اس کا ذکر کروں ان صفات کے ساتھ مال کا بھی ذکر کیا گیا ہے اور یہ فرمایا گیا ہے يَحْسَبُ أَنَّ مَالَةٌ أَخْلَدَهُ ہر ایسا شخص یا ہر ایسی قوم اور جماعت ( هُمَزَةٍ اور تُمَزَةٍ مونث اور مذکر دونوں کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور استعمال ہو سکتے ہیں۔فرد واحد کے لئے بھی استعمال ہو سکتے ہیں اور جماعت کے لئے بھی۔تو یہ معنی نہیں گے کہ ایسی قومیں یا ایسے افراد جن کے اندر یہ دوصفات پائی جاتی ہیں وہ مال کی بھی بہت حرص رکھنے والی قومیں ہیں یا مال کا بہت زیادہ حرص رکھنے والے افراد۔اور ان کو یہ وہم ہے کہ اموال ان کو ہمیشہ کی زندگی عطا کر دیں گے اور ایک اولاد کا بھی ذکر ہے دوسری آیت میں وہ میں بعد میں بتاؤں گا۔بہر حال اموال سے تو اس کا کوئی تعلق گہرا موجود ہے اور اس کے نتیجہ میں ایسے انسانوں کو یہ غلط نہی پیدا ہو جائے گی کہ وہ دنیا میں اپنے اموال کے زور سے باقی رہیں گے اور لمبا عرصہ رہ جائیں گے۔ان معنوں میں فرد سے زیادہ قوم کی طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ مال کسی فرد کو ہمیشہ کی زندگی نہیں عطا کر سکتا۔مال کے نتیجہ میں انسان اچھی دوائیں خرید بھی لے ، اچھے حکیم سے علاج بھی کروالے اور تنعم کی زندگی اختیار کرلے، ہر قسم کے خطرات سے بیماریوں سے بچے تب بھی اس کے لئے اخلدہ کا لفظ استعمال ہونا بعید ہے۔ہاں قومی طور پر جو دولت مند قومیں ہیں وہ یہ خیال کرنے لگ جاتی ہیں بسا اوقات کہ ہم اتنی طاقتور ہو گئی ہیں اپنے اموال کے ذریعہ کہ اب ہمیں کوئی غریب قوم مٹا نہیں سکتی اور ہماری ہمیشگی کی ضمانت بن گئے ہیں ہمارے اموال اس لئے یہاں