خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 715 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 715

خطبات طاہر جلد ۳ 715 خطبہ جمعہ ۷ / دسمبر ۱۹۸۴ء اور یہ بھی بتاتے چلے جا رہے ہیں کہ بیچ میں اصل کارستانی کس کی ہے سازش کہاں پیدا ہوتی ہے کہاں پرورش پاتی ہے اور کیوں ہم یہ حرکت کر رہے ہیں؟ ایک طرف وہ اس حکومت کو بد نام کر رہے ہیں دوسری طرف سعودی عرب کی حکومت کو بدنام کرتے چلے جارہے ہیں اور کھلم کھلا یہ کہتے ہیں کہ اگر موجودہ حکومت ہمارا ساتھ نہ بھی دے تو ہمارا پیسہ تو سعودی عرب سے آرہا ہے اور سعودی عرب کی حکومت کا رعب اس ملک پر ہے مجال ہے کہ کوئی ہماری بات کو ٹال سکے۔چنانچہ اب وہ یہ باتیں بھی کہنے لگ گئے ہیں کہ ہمارا تو وزیر مذہبی امور اور سعودی عرب سے براہ راست تعلق ہے اور اگر ضیاء صاحب یا یہ جرنیل جو چند سمجھتے ہیں کے طاقت ان کے ہاتھ میں ہے اگر یہ چاہیں بھی تو اب ہماری بات کو رد نہیں کر سکتے کیونکہ اصل طاقت کا Axis قائم ہوا ہے محور بن گیا ہے، ہم اور مذہبی امور کی وزارت اور سعودی عرب، یہ براہ راست تعلق ہے ہمارا اور سعودی عرب کے پیچھے امریکہ کی طاقت موجود ہے اس لئے موجودہ حکومت کی مجال نہیں کہ وہ مل سکے کسی بات سے تو ادھر ان کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔موجودہ حکومت کے متعلق تو میں جانتا نہیں کہ وہ کیا باتیں ہیں کس حد تک اور کیوں وہ یہ باتیں ہونے دے رہے ہیں یا ان کو ان باتوں کا علم نہیں ہے لیکن سعودی عرب کے متعلق تو میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ کلمہ توحید مٹانے کی کسی سازش میں بھی شریک ہو سکتے ہیں۔سعودی عرب کی حکومت تو وہ ہے جو اس وقت منصہ شہود پر ابھری جب شرک نے خانہ کعبہ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تھا ، جب نہایت ہی ناروا حرکتیں ہو رہی تھیں خانہ کعبہ میں جن کا اسلام سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔اس وقت ان کے جد امجد نے عظیم الشان کارنامہ اسلام کی خدمت کا یہ سر انجام دیا کہ مولانا عبدالوھاب کے ساتھ مل کر شرک کے قلع قمع کرنے کی ایک تحریک چلائی جس نے رفتہ رفتہ پھیلتے سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔پہلے سرزمین حجاز سے وہ آواز بلند ہوئی اور پھیلتے پھیلتے وہ حجاز کی زمین سے باہر نکل کر ارد گرد کے علاقوں میں بھی پھیل گئی اور اتنی عظیم الشان قوت نصیب ہوئی کلمہ توحید کے نتیجہ میں کہ آج یہ جتنی دولتوں کے مالک بنے ہوئے ہیں،ساری دنیا میں جتنا ان کا نفوذ ہے وہ تمام تر اگر یہ ادنی سا غور کریں تو کلمہ توحید کی برکت سے ہے۔اگر تو حید کی حفاظت میں یہ جہاد نہ شروع کرتے تو ناممکن تھا ان کے لئے خانہ کعبہ اور حجاز کی سرزمین پر قابض ہو جاتے۔جہاں سے آج تیل کے چشمے ابلے ہیں اور ہر گز بعید نہیں کہ اللہ جو تو حید کے لئے بے انتہا غیرت رکھتا