خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 674 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 674

خطبات طاہر جلد ۳ 674 خطبه جمعه ۱۶ نومبر ۱۹۸۴ء دیئے، جلوس نے گالیاں دیں، ہر طرح کوشش کر کے دیکھ لی اور جب دیکھا کہ ایک بچہ، ایک عورت، ایک مرد کوئی ایک بھی اپنے دین سے نہیں پھرا اور بڑی شان کے ساتھ سراٹھا کر پھرتا ہے اور ایک ذرہ بھی اس نے کمزوری نہیں دکھائی تو انہوں نے پھر اعلان کرنا شروع کیا مساجد میں تقریریں شروع کر دیں کہ اب ان کا ایک ہی علاج ہے کہ ان سب کو آگئیں لگا دو، مکانوں میں زندہ جلا دو۔بڑی شدید اشتعال انگیز تقریریں شروع کیں، کسی احمدی کے ماتھے پر کوئی بل نہیں پڑا بالکل کوئی خوف ظاہر نہیں ہوا اور اسی طرح وہ سر اٹھا کر ان کی گلیوں میں پھرتے رہے کہ اب جو کرنا ہے کرو ایک ذرہ بھی ہم نے تمہارے سامنے نہیں دبنا، جو پیش جاتی ہے تمہاری تم کر کے دکھا دو۔ان دنوں کی بات ہے ، ابھی بھی ویسے ہی دن چل رہے ہیں کہ جس گاؤں کا میں نے ذکر کیا ہے وہاں کا ایک احمدی جو گھر کا سر براہ ہے وہ کراچی گیا ہوا تھا تو کراچی میں اس نے جب یہ خبریں سنیں وحشتناک تو اس کا ایمان ڈول گیا دور بیٹھے۔اپنے لئے تو شاید نہ ڈولتا لیکن اس نے اپنی بیوی ، اپنی ماں ، اپنے کمزور بچے پیچھے چھوڑے ہوئے تھے۔اس نے ایک گاؤں کے مولوی کو خط لکھا جو نسبتاً بڑا گاؤں پاس ہے اور خط میں نے اس نے لکھا کہ دیکھو مجھے معلوم ہوا ہے کہ اس طرح تم لوگ ارادہ کر رہے ہو تو میں مرزائیت سے تو بہ کرتا ہوں اس لئے بجائے اس کے کہ تم میرے گھر کو آگ لگاؤ اور جا کر تکلیف دو میرے معصوم بچوں کو میں تمہارے سپردکرتا ہوں اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آؤں گا تو تمہاری مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان بھی کر دوں گا کہ میرا جماعت سے کوئی تعلق نہیں اس لئے اب تم ان کو جا کر تسلی دو اور ان کی حفاظت کا انتظام کرو۔مولوی صاحب تسلی دینے پہنچ گئے وہاں گھر اس کی بوڑھی ماں اور بیوی گھر میں تھے جب انہوں نے سنا تو ان کو تو آگ لگ گئی۔انہوں نے کہا مولوی ! تم کس خیال میں آئے ہو! تم ہماری حفاظت کرو گے؟ جو کچھ تم سے بنتی ہے کرو، ہمارا صرف خدا حافظ ہے، ہمیں ایک ذرہ بھی پروا نہیں تمہاری حفاظتوں یا تمہاری دشمنیوں کی اور کس کی بات کر رہے ہو؟ اس شخص سے تو ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں ہے جس شخص کا تم نے نام لیا ہے آئندہ اس کا نام ہمارے سامنے نہیں لینا اور پھر دونوں ماں اور بیوی نے ایک خط لکھا اس کو اور خط میں لکھتی ہے ایک فقرہ اسکا میں آپ کو سناتا ہوں : اگر عید پر آکر تم نے اعلان کیا کہ میں احمدی نہیں ہوں تو اس گاؤں میں اپنے لئے بیوی بھی اور کر لینا اور ماں بھی کسی اور کو بنالینا۔ہمارا تمہارے