خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 62
خطبات طاہر جلد۳ 62 خطبہ جمعہ ۲۷ /جنوری ۱۹۸۴ء جب وہ پوری نہ ہو تو انسان کو تکلیف پہنچتی ہے۔آپ حیران ہوتے ہیں کہ افیموں کو کیا ہو گیا ہے، کیا بیہودہ سی چیز ہے کڑوی ، گندی، مکروہ ہی چیز اور عادتیں اس کے نتیجہ میں بگڑنے والی لیکن مرتے جاتے ہیں افیم کے بغیر۔تو عادت کسی چیز کی ہو گندی سے گندی چیز کی بھی ہو جب وہ عادت چھٹتی ہے تو بڑا تکلیف کا زمانہ ہوتا ہے اس لئے میں جانتا ہوں کہ تکلیف ہوگی سب کو شروع میں لیکن اس تکلیف کا علاج آنحضرت ﷺ نے بیان فرما دیا ہے جب غیبت کو دل چاہے تو اپنے بھائیوں کی برائی کرنے کی بجائے ان کے لئے دعا کیا کریں اور دعا ایک لذت بخشے گی آپ کو، اس دعا کے نتیجہ میں آپ کے اندر عظمت کردار پیدا ہوگی ، آپ کے دل کو تسکین حاصل ہوگی اور چونکہ خلا نہیں رہ سکتا صرف بدی کو دور کرنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا اس لئے حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ کے فرمان کے مطابق دعاؤں کے ذریعہ ان بدیوں کو دور کریں اور ان بھائیوں کے لئے دعا کے ذریعہ بدیوں کو دور کریں جن بھائیوں کو آپ کی زبانیں اور آپ کے ظن نقصان پہنچاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ رحم فرمائے میں نے تو یہاں تک دیکھا ہے کہ جس شخص کے ہاتھ پر یہ بیعت کی جاتی ہے کہ میں بدظنی نہیں کروں گا، میں غیبت نہیں کروں گا، بہت سے بد قسمت اس شخص کو بھی بدظنی اور غیبت سے الگ نہیں رکھتے، چھوٹی چھوٹی آزمائشوں میں پڑ کر بھی بدظنی شروع کر دیتے ہیں۔کوئی مقدمے کا فیصلہ ہو تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ اس نے یک طرفہ بات سنی ہے اس لئے یہ فیصلہ ہمارے خلاف دے دیا۔فلاں خاندان سے تعلقات تھے اس لئے اس نے ہمارے خلاف یہ فیصلہ دے دیا۔تو ایسی بلا ہے بدظنی کہ جس ہاتھ پر بیعت کی جاتی ہے کہ ہم بدظنی نہیں کریں گے اور غیبت نہیں کریں گے اسی ہاتھ کو بدظنی کے چاقوؤں سے کاٹا جاتا ہے اس لئے بہت مستعد ہونے کی ضرورت ہے اور بہت دعاؤں کی ضرورت ہے۔ایک مہم کا عالمی سطح پر جماعت کو آغاز کر دینا چاہئے کہ ہم غیبت نہیں کریں گے اور بدظنی نہیں کریں گے اور نجس نہیں کریں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: گزشتہ دو خطبات میں میں نے دعا کی طرف توجہ دلائی تھی آج پھر انہیں دعاؤں کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ایک تو بارش کے لئے دعا جاری رکھیں اپنے ملک کے لئے بھی اور دوسرے دنیا کے ممالک کے لئے بھی جہاں خشک سالی ایک بہت بڑا خطرہ بن چکی ہے۔گزشتہ جمعہ جو ہم نے دعا کی