خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 670 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 670

خطبات طاہر جلد ۳ 670 خطبه جمعه ۱۶/ نومبر ۱۹۸۴ء اتنا پیارا ہے، اتنا حسین ہے کہ اس میں کھو کر انسان جنت میں پہنچ جاتا ہے۔جب یہ ہوتا دیکھیں گے ہم تو کیا عالم ہوگا ہمارے دل کا اساری دنیا کی طاقتیں آپ کو سمیٹنے کی کوشش کریں گی ،تمام دنیا کی طاقتیں آپ کے گرد باڑیں لگانے کی کوشش کریں گی ، تمام دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں دیوار میں کھڑی کریں گی جس طرح پاکستان کی حکومت آج کل دیواریں کھڑی کرنے میں مصروف ہے لیکن خدا کی قسم آپ کے اندر ایسی قوتیں پیدا ہو جائیں گی خدا کی طرف سے کہ آپ چھلانگیں لگاتے ہوئے ہر اونچی دیوار کو پھلانگ کر آگے نکل جائیں گے، ہر حد کو توڑ دینگے اور لازماً اسلام کی یہ لہر ساری دنیا پر غالب آتی چلی جائے گی۔یہ مقدر ہے احمدیت کا جو مجھے اس دشمنی کے پارا اسکے دوسری طرف نظر آرہا ہے اس لئے جماعت کا رد عمل یہی ہونا چاہئے جو قرآن کریم نے مقرر فرمایا ہے۔اس غیظ و غضب کو بھول جائیں اور اپنی ترقی کی طرف نگاہ کریں اور روئیدگی کی طرح پھوٹیں اور پھر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں۔پھر اس کے بعد جو مبلغ بن جائے گا پھر اس کو جماعت کو کہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔یہ نقشہ بھی قرآن کریم نے کھینچا ہوا ہے اور بالکل فطرت کے مطابق ہے۔ابتدا میں مبلغ کو بنانے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے وہ بیج سے طاقت لے کر مبلغ بنتا ہے مگر ایک دفعہ بن جائے تو پھر سوال ہی نہیں پیدا ہوتا بیچ اس کے ساتھ وابستہ ہی نہیں رہا کرتا وہ تعلق بھی بعض دفعہ ٹوٹ جاتا ہے پھر بھی وہ بڑھتا ہے اور پھولتا ہے اور پھلتا ہے اور نشو و نما پاتا ہے۔یہ ایک ایسا چسکا ہے کہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا جس کو تبلیغ کا چسکا ایک دفعہ لگ جائے پھر اس کو کہنے کی ضرورت نہیں ہوا کرتی کہ تم تبلیغ کر وہاں بعض دفعہ روکنے کی ضرورت پڑتی ہے کہ میاں ذرا ہوش سے، آہستگی سے ، ملائمت سے نرمی سے ، اتنا بھی زیادہ زور نہ دکھاؤ، روکنا پڑتا ہے پھر کئی مبلغین جن کو مجھے سمجھانا پڑتا ہے کہ اتنی تیزی سے نہ کرو کچھ حکمت سے بھی کام لوذ را نرم روش اختیار کرو۔لیکن جو مبلغ بنا ہوا ہو اس کو پھر یہ Coax کرنے کی یا انگیخت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کہ تم نے تبلیغ کرنی ہے۔بعض گھرانے جو مبلغ بن چکے ہیں وہ رفتہ رفتہ اتنا بڑھ گئے ہیں کہ نہ ان کے اپنے آرام ان کے پیش نظر ہیں نہ بچوں کے آرام پیش نظر ہیں۔بعض دفعہ انگلستان میں ہی بعض خاندان ہیں ساری ساری رات پھر وہ تبلیغ میں صرف کر دیتے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں تو لگتا ہے باہر والے قربانی دے رہے ہیں لیکن ان سے پوچھیں تو وہ ایک ایسی لذت پاتے ہیں کہ ان کو روکنے والا ان کو برا لگتا ہے کہ یہ مجھے کیا کہہ رہا ہے؟ پس وہ کیفیت ہے