خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 658 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 658

خطبات طاہر جلد ۳ 658 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء ہر طرف تو اس قدر مجھے شدید تکلیف تھی کہ میں کیا کروں میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔کہتی ہیں اچانک مجھے خیال آیا کے یہ جو گائے میں نے لی ہے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے یہ تو ہے تمہارے پاس اگر تمہیں اس گائے سے محبت ہے اور دل میں خواہش قربانی کی زیادہ ہے تو پھر اس گائے کو پیش کر دو۔چنانچہ آج کے بعد سے یہ گائے میری نہیں ہے جب تک آپ اس کو سنبھال کر یا بیچ کر انتظام نہیں کر لیتے اس وقت تک جو دودھ میں اس سے لوں گی اسکے پیسے ادا کرونگی۔عجیب دیوانے لوگ ہیں دنیا تو تصور بھی نہیں کر سکتی کہ احمدی کیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے؟ وہ تو آپ کے ظاہر کو بھی نہیں پہچانتی آپ کے باطن میں کیسے اسکی نگاہیں اتر سکتی ہیں۔ایک بچی کا بہت پیارا خط آیا۔کہتی ہے (Cassette) کیسٹ چل رہی تھی عورتوں کی قربانیوں کے جو آپ واقعات بیان کر رہے تھے ، چھوٹی بچی ہے وہ کہتی ہے کہ میرے دل میں عجیب تڑپ اٹھی اور میں نے اپنی ماں کو کہا کہ امی آپ کے دل پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔کہتی ، یہ کہتے کہتے جو میری نظر اٹھی تو دیکھا کہ ماں اپنی بالیاں اتار رہی ہے اور روتی چلی جارہی ہے۔اس وقت مجھے خیال آیا کہ میں نے اپنی ماں پر بدظنی کی تھی وہی بالیاں اس کے پاس تھیں اور ادھر بیٹی کے دل میں یہ تڑپ پیدا ہوئی ادھر وہ ماں کے ہاتھ پہلے ہی اس طرف اٹھ چکے تھے۔یہ قوم ہے جس کو یہ ظالم مٹائیں گے ! خدا کی قسم آپ نہیں مٹ سکتے ، آپ ہمیشہ زندہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں یہ محمد مصطفی ﷺ کی روحیں ہیں جو آپ کے اندر زندہ ہو رہی ہیں، یہ محمد مصطفی ﷺ کی صفات ہیں جو آپ کو نئی زندگی عطا کر رہی ہیں ان کو خدا مٹنے دے گا؟ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا یہ ناممکن ہے ساری کائنات مٹ سکتی ہے لیکن احمدیت کی روح نہیں مٹ سکتی کیونکہ یہ محمد مصطفی ﷺ کی غلامی کی روح ہے اور خدا اس روح کو کبھی مٹنے نہیں دے گا۔یہ کلمے مٹارہے ہیں۔عجیب تاریخ بن رہی ہے اسلامی ملک اور سپاہی اور ملازم مقرر کئے گئے ہیں حکم دے کر کہ کلمے مٹاؤ کبھی دنیا کی تاریخ میں ایسا بھی واقعہ آیا تھا۔یہ دن بھی بدقسمتوں نے دیکھنے تھے کہ اسلام کے نام پر اللہ کی عطا کی گئی تھی ایک ملک کے طور پر اور وہاں کی حکومت کو اور کوئی کام ہی نہیں ہے سوائے اس کے کہ کلمے کے پیچھے پڑ جائے کہ کلے مٹادو۔یہ نظارہ بھی سامنے آیا کہ ایک مسجد میں جب ایک مجسٹریٹ اور پولیس پہنچی کہ ہمیں اوپر سے حکم آیا ہے کہ اگر یہ مولویوں کو نہیں ر