خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 657

خطبات طاہر جلد ۳ 657 خطبه جمعه ۹ نومبر ۱۹۸۴ء بے چینی سے وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔وہ بچہ لکھتا ہے کہ یہ خط مجھ پر بجلی بن کر گرا اور اس کے بعد پھر میں نے احمدیت کی کتابیں پڑھنی شروع کیں اور اب تو جہاں موقع ملتا ہے تبلیغ کی بھی کوشش کرتا ہوں۔میری اس تبدیلی کو دیکھ کر دوست احباب حیران ہو جاتے ہیں کہ اسے کیا ہو گیا ہے۔تو یہ ایک انعام ہے جو اللہ تعالیٰ عطا کر رہا ہے جماعت کو اور کثرت سے عطا کر رہا ہے۔چھوٹے چھوٹے بچے ولی بن رہے ہیں اور خدا کی راہ میں آنسو بہانے لگے ہیں۔ایک صاحب لکھتے ہیں کہ بعض اوقات تو بڑے رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔جب ہم خطبات کی کیسٹس (Cassettes) سنتے ہیں تو دوست اتنا روتے ہیں اتنا روتے ہیں کہ بعض دفعہ برداشت نہیں ہوتا تو اونچی آوازوں سے رونا شروع کر دیتے ہیں۔وہ دوست جن کو کبھی نمازوں میں ست دیکھا جاتا تھا وہ بھی اب عبادت کے وقت زار و قطار آنسو بہانے لگتے ہیں۔سمجھ نہیں آتی کہ اتنی جلدی چند ماہ میں یہ حیرت انگیز تبدیلی پیدا کیسے ہوگئی؟ جہاں تک چندوں کا تعلق ہے اس کثرت سے خطوط ہیں حیرت انگیز قربانیوں کے کہ ناممکن ہے کہ میں آپ کو بتا سکوں۔وہ محفوظ کئے جارہے ہیں اور انشاء اللہ تعالی آئندہ زمانے کے لئے یہ تاریخ محفوظ کی جائے گی۔ایسے عجیب خدا تعالیٰ نے دلوں کے اوپر تصرفات فرمائے ہیں اور ایسی ایسی ہمتیں عطا کی ہیں قربانی کے لئے ، ایسا جوش پیدا کیا ہے، ایسی لذتیں عطا کی ہیں قربانی کرنے والوں کو کہ یہ تو اب ٹھہر نے والا قصہ ہی نہیں ہے، یہ تو میں روکتا ہوں تو رکتے نہیں ہیں بعض دفعہ میں واپس کرتا ہوں کہ یہ تمہاری طاقت سے بڑھ کر ہے منتیں کر کے دوبارہ دیتے ہیں۔کئی دفعہ ایسا ہوا۔ایک دفعہ نہیں ہوا، ایک نوجوان سے میں نے کہا کہ یہ تمہاری ساری عمر کی کمائی ہے علم ہے میں یقین دلاتا ہوں کہ خدا کی راہ میں یہ منظور ہو گئی ہے اور میں تمہیں یہ واپس کر رہا ہوں تم بالکل فکر نہ کرو لیکن اتنا حصہ میں تمہارا قبول کرتا ہوں۔اسکی وہ کیفیت ہوئی خط پڑھ کر کہ میری قربانی کو گو یا رد کر دیا گیا ہے کہ ایسا روحانی عذاب میں بے چارہ مبتلا ہوا کہ بعد میں یہ مجھے پتہ چلا تو شدید مجھے دکھ پہنچا کہ میں نے کیوں اس کو ایسا کہا تھا اور آخر اس نے وہ دیکر ہی چھوڑا۔تو بظاہر جو لوگ محروم ہو رہے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ اب ایسی روحانی لذتیں عطا کر رہا ہے اس کا تصور بھی کوئی دنیا میں نہیں کر سکتا۔ایک غریب عورت نے یہ لکھا کہ جب میں نے دیکھا اپنی بہنوں کو قربانی کرتے ہوئے