خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 635 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 635

خطبات طاہر جلد ۳ 635 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء زمین روئے گی۔نہ کبھی آسمان ان پر رویا اور نہ کبھی زمین نے ان پر آنسو بہائے وَمَا كَانُوا مُنظرین اور پھر وہ کبھی مہلت نہیں دیئے گئے۔کیسا عظیم الشان ایک اظہار ہے اور اتنا ہی درد ناک ہے۔آپ انبیاء کی تاریخ پڑھ لیں دنیا کی قوموں پر خواہ وہ ظالم بھی ہوں اگر وہ انبیاء سے نہیں ٹکرائیں تو ان پر رونے والے آپ کو ملیں گے لیکن ان قوموں پر جو انبیاء سے ٹکر لے کر ماری گئی ہیں ان پر کوئی رونے والا آپ کو نہیں ملے گا۔وہ لوگ جو نوح علیہ السلام کے مقابل پر آکر ہلاک ہوئے اور غرق کئے گئے ان کے تذکرے آپ پڑھتے ہیں اور تمام دنیا کی کتابوں میں اور تمام کہانیوں میں ان کا ذکر ملتا ہے لیکن ایک بھی آنکھ ایسی نہیں جو ان لوگوں پر آنسو بہاتی ہو۔آج اگر کسی ایسے علاقے میں بھی جہاں سیاسی لحاظ سے دشمن قابض ہوں وہاں بھی اگر (Flood) زیادہ آجائے اور دو چار سو جانیں ہلاک ہو جائیں تو مخالف نظریہ رکھنے والے بھی رو پڑتے ہیں بعض دفعہ۔عام تباہیاں جو ہیں دنیا کی ان میں پھر اپنے اختلافات بھول جاتے ہیں اب دیکھیں وہاں اتھوپیا میں، ایسے سینیا میں وہ ایک اشترا کی ملک ہے، بڑا سخت مخالف ہے لیکن اس کے باوجود چونکہ ایک تبا ہی عام ہے یہاں یورپ میں انگلستان میں اور امریکہ میں ان کے حالات پر لوگ آنسو بہارہے ہیں اور قربانیاں بھی پیش کر رہے ہیں لیکن یہ ایک عجیب استثناء ہے کہ وہ قو میں جو خدا کے انبیاء سے ٹکراتی ہیں اور اس جرم میں ہلاک کی جاتی ہیں ان پر کبھی کسی آنکھ نے آنسو نہیں بہائے۔سماء سے مراد روحانی لوگ ہیں اور ارض سے مراد زمینی لوگ ہیں۔مراد یہ ہے یہ ایسے بد بخت لوگ ہوتے ہیں کہ نہ ان پر پھر آسمانی لوگ آنسو بہاتے ہیں نہ ان پر زمینی لوگ آنسو بہاتے ہیں۔پس جہاں تک جماعت احمدیہ کا تعلق ہے ہم نے تو مذہب قرآن سے سیکھا ہے اور یہی ہمارے لئے کافی ہے۔قرآن جس مذہب کی تاریخ پیش کر رہا ہے وہی تاریخ ہے جو ہمارے لئے ایک سند ہے اور اگر ہماری تاریخ بھی اسی خون سے لکھی جائے جس خون سے پہلے انبیاء کے ماننے والوں کی تاریخ لکھی گئی تھی تو یہ ایک بہت ہی بابرکت مقام ہوگا، بہت ہی عزت اور شرف کا مقام ہوگا لیکن اس تاریخ پر ہم قرآن کریم کی زبان میں لعنت ڈالتے ہیں جو انبیاء کے منکرین کی تاریخ ہے۔فَبُعْدًا لِلْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (المومنون (۳۲) ہلاکت ہو بلعنت ہوان لوگوں پر جنہوں نے ظلم کی راہ