خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 633
خطبات طاہر جلد۳ 633 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء اور اس فیصلہ کی طرز اپنے نبی پر اس فیصلے کا اظہار کر دیا ہے۔وَقَضَيْنَا إِلَيْهِ ذَلِكَ الْأَمْرَ کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے ایک فیصلہ کیا اور پھر اپنے نبی پر اس فیصلے کا اظہار فرما دیا وہ فیصلہ کیا تھا ؟ اَنَّ دَابِرَ هَؤُلَاءِ مَقْطُوعُ مُصْبِحِيْنَ کہ ان کے متعلق فیصلہ یہ ہے کہ ان کی جڑیں کاٹی جائیں گی۔اور قصبحِینَ کا لفظ خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ایک تو یہ قرآن کریم کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اکثر قوموں پر عذاب رات کے پچھلے پہر آئے ہیں جب کہ صبح ہونے والی تھی اور جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات اور پیشگوئیوں کا تعلق ہے وہاں بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ رات کے پچھلے پہر دفعہ ، اچانک، غیر متوقع طور پر خدا تعالیٰ کی پکڑ آئے گی۔اس کثرت سے تذکرہ میں یہ مذکور ہے کہ اس میں کوئی حکمت ہے۔پچھلے پہر عذاب آنے میں کئی باتیں ہیں قابل غور۔اس کو مُصْبِحِينَ فرماتا ہے اللہ تعالیٰ اور پھر فرماتا ہے فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ (الصافات: ۱۷۸) جن کو ڈرایا گیا تھا اُن کی کیسی صبح طلوع ہوئی ؟ تو انقلاب کے لئے جو ایک روحانی انقلاب برپا ہونا ہوتا ہے اس کے لئے یہ بہترین وقت ہے۔ایک طرف ظالم صبح کی انتظار کر رہا ہوتا ہے اور ایک طرف مظلوم صبح کی انتظار کر رہا ہوتا ہے۔تو ان کی تباہی اور مظلوم کی صبح کے درمیان فاصلہ کوئی نہیں ہوتا ہے۔یعنی یہ ایسے وقت میں تباہی آتی ہے کہ اس کے ساتھ ہی مظلوم کی صبح کا سورج طلوع ہورہا ہوتا ہے اور ان کی صبح ایسی بدتر ہوتی ہے کہ رات سے بھی بدتر صبح آتی ہے۔ایسی صبح آتی ہے جیسے ایک عرب شاعر نے کہا ہے: الا أَيُّهَا اللَّيْلُ الطَّوِيلُ انْجَلِي بِصُبْحٍ فَمَا الَّا صُبَاحٌ مِنْكِ بِأَمْثَلِي اے لمبی تاریک رات صبح میں تبدیل ہو جا فما الاصباح منک بامثلی لیکن ٹھہر ! صبح بھی کون سی تجھ سے بہتر آنے والی ہے وہ بھی تجھ سے بدتر آئے گی۔تو اس شعر کا اطلاق کسی اور پر ہو یا نہ ہو لیکن خدا تعالیٰ کے دشمنوں پر ضرور ہوتا ہے اور ایک ہی وقت میں ایک قوم کے لئے حقیقی صبح طلوع ہورہی ہوتی ہے اور ایک قوم کے لئے رات سے بدتر صبح طلوع ہورہی ہوتی ہے جیسا کہ فرمایا فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِینَ جن کو ڈاریا جاتا ہے ان کے لئے کیسی ہی بد بخت صبح ہے جو ان