خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 629
خطبات طاہر جلد ۳ 629 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء تسلیم کیا کہ یہ فیصلہ قرآن سے کرلو کہ قرآن کس کو اجازت دیتا ہے اور کیا اجازت دیتا ہے اس قسم کے امور میں؟ لیکن عقیدوں کے معاملہ میں تمہاری بات نہیں مانی جائے گی۔اگر اصول میں تم نے دخل دیا اور وہ اصول قرآن کی رو سے صحیح ثابت نہ ہو تو میں پابند نہیں ہوں کہ تمہاری بات مانوں قرآن کی بات چلے گی تمہاری نہیں چلے گی۔تو خاص شرطوں کے ساتھ اور یہ شرطیں لازم ہیں ہر مسلمان پر صرف حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا معاملہ نہیں تھا ہر مسلمان کے لئے یہی حکم ہے۔تم غیروں کی عدالت میں دوسروں کی عدالت میں آپس کے جھگڑے طے کرنے کی خاطر صلح کی خاطر، امن کی خاطر ، مقد مے لے جاسکتے ہو لیکن یہ اجازت نہیں ہو سکتی کسی فریق کو کہ وہ قرآن کے فیصلے کے خلاف تم سے بات کرے اور پھر تمہیں وہ بات واجب التعمیل ہو اور تمہیں تسلیم کرنا ضروری ہو۔تم اس صورت میں آزاد ہو جاتے ہو۔بہر حال نہ وہ اس غرض سے گئے نہ کوئی احمدی کسی دنیا کی عدالت کا یہ حق تسلیم کرتا ہے اور اصل موضوع کو چھوڑ کر بالکل بے تعلق باتیں اور گالی گلوچ شروع کر دی۔یہ باتیں دیکھ کر مجھے جسٹس کیانی یاد آگئے بڑے وہ دلچسپ انسان تھے بڑا اونچا ان کا علم بھی اور عدالت کا مقام بھی، ان کا فہم اور ان کی پہنچ اور نہایت لطیف باتیں کرنے والے تھے۔انہوں نے مولوی کے متعلق بعض باتیں بیان کی ہیں۔ان کا یہ ایمان تھا کہ مولوی جہاں بھی ہو جس طرح بھی ہو اس کا جو نام رکھ لو، جس زمانہ کا ہو وہ وہی رہتا ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔عدالت کے باہر ہویا عدالت کے اندر ہو، عادل کہلائے یا غیر عادل کہلائے ، مولوی مولوی ہی رہے گا اور دوسرا ان کا یہ عقیدہ تھا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جس کا زمانہ سے بھی تعلق نہیں۔ان کا ایمان تھا کہ ہر زمانہ کا مولوی ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔چنانچہ اس مضمون کو اپنے خاص لطیف انداز میں بیان کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ زمانے بدل گئے اور بہت سی تبدلیاں آگئیں، نئے نئے مضمون آگئے دنیا میں اور بظاہر مولوی بھی بدل گئے۔کہتے ہیں لیکن بظاہر بدلے، جہاں تک مضمون کا افتاد طبع کا تعلق ہے ان کی دلچسپیوں اور ان کے موضوعات کا تعلق ہے ان میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔کہتے ہیں آج بھی ان کی دلچسپی کا مضمون روڑا ہی ہے کہ روڑا کو کس طرح استعمال کرنا چاہیئے ؟ صرف بدلی ہے تو اصطلاح بدلی ہے۔پہلے زمانہ میں یہ بحث ہوا کرتی تھیں دائیں سے بائیں یا بائیں سے دائیں؟ ماڈرن مولوی یہ بحث کرتا ہے کہ کلاک