خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 628 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 628

خطبات طاہر جلد ۳ 628 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء ہے۔تو کیسا بر موقع ہے یہ الہام انہیں لوگوں کے متعلق ہے جو انکار کرتے ہیں قرآن کریم یہ محاورہ استعمال فرماتا ہے أُولَبِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِينٌ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے ایمان لانے والوں کا تعلق ہے قرآن کریم ان کے متعلق فرماتا ہے وَإِنْ كَانَ طَابِفَةٌ مِنْكُمْ أَمَنُوْا بِالَّذِي أُرْسِلْتُ بِهِ وَطَابِفَةٌ ثَمُ يُؤْمِنُوا ان کا اور غیروں کا مقابلہ جو چل پڑا جو لوگ ایمان لے آئے اُن کے اور غیروں کے درمیان کیسے فرق ہوگا، کون فیصلہ کرے گا؟ اس کے متعلق قرآن کریم فرما رہا ہے وَانْ كَانَ طَائِفَةٌ مِنْكُمْ أَمَنُوا بِالَّذِى أُرْسِلْتُ بِه آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے یہ اعلان کیا جارہا ہے کہ اگر تم میں سے ایک گروہ اس بات پر ایمان لے آیا ہے جسے میں لے کر آیا ہوں، جس کی خاطر مجھے بھیجا گیا ہے وَطَائِفَةٌ لَّمْ يُؤْمِنُوا اور ایک گروہ ہے جو نہیں ایمان لایا۔یہی شکل پیدا ہوا کرتی ہے جب بھی کوئی خدا کی طرف سے دعوی کرتا ہے، تو دنیا پھر دوگروہوں میں بٹ جاتی ہے، ایک ایمان لانے والا اور ایک نہ ایمان لانے والا ہے۔اس کا علاج کیا ہے؟ کوئی اعلان جنگ نہیں کوئی گالی گلوچ کا اعلان نہیں ہے۔فرمایا فَاصْبِرُوا حَتَّى يَحْكُمَ اللهُ بَيْنَنَا ۚ وَهُوَ خَيْرُ الحكمِينَ (الاعراف: ۸۸) تم پھر ایسے موقع پر صبر سے کام لو انتظار کرو۔کیونکہ ایسے موقع پر ضرور فیصلے کیا کرتا ہے جب تک خدا فیصلہ نہ فرمادے اب ان دو گروہوں کے درمیان کوئی لڑائی نہیں ہے خدا کے فیصلے کا انتظار کرو۔وَهُوَ خَيْرُ الْحَکمتیں اور وہ بہترین فیصلے فرمانے والا ہے۔ان امور کی روشنی میں ناممکن تھا کہ کوئی احمدی کسی بھی دنیا کی عدالت میں خواہ اس کا کوئی بھی نام ہو یہ معاملہ لے کر جاتا کہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ کریں کہ ہم بچے ہیں یا ہمارا مخالف سچا ہے، اعتقادات کے لحاظ سے۔دنیاوی معاملات میں تو ایک مسلمان کو غیر مسلم کی عدالت میں جانا پڑتا ہے۔اپنے سے اختلاف رکھنے والے کی عدالت میں جانا پڑتا ہے اور دنیاوی معاملات میں اسلام مذہب کی تفریق ہی کوئی نہیں کرتا ، یہودی آنحضور ﷺ کی عدالت میں آجایا کرتے تھے فیصلوں کے لئے۔خلیفہ وقت اپنے مخالف فریق کو اختیار دیتا ہے کہ تم چن لوکوئی نمائندے ہم فیصلہ کرواتے ہیں لیکن دنیاوی امور میں تو ان لوگوں کے بعد جہاں تک قرآن کا حکم ہے اس معاملہ میں کوئی فیصلہ تسلیم نہیں کیا جائے گا۔دنیاوی امور تک ٹھیک ہے اور یہ بھی ممکن ہے جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے یہ