خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 625 of 854

خطبات طاہر (جلد 3۔ 1984ء) — Page 625

خطبات طاہر جلد ۳ 625 خطبه جمعه ۲ / نومبر ۱۹۸۴ء خدا کے انبیاء کے مخالفین اختیار کیا کرتے تھے۔چنانچہ قرآن کریم اس کا پورا ریکارڈ رکھتا ہے، ایک بڑی تفصیلی تاریخ بیان فرما رہا ہے۔فرماتا ہے: وَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِنْ هَذَا إِلَّا إِفْتُ افْتَرَيَهُ وَأَعَانَهُ عَلَيْهِ قَوْمُ أَخَرُونَ فَقَدْ جَاءُ وَظُلْمًا وَزُوران ( الفرقان: ۵) فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو تیرا انکار کرتے ہیں کہتے ہیں اِنْ هَذَا إِلَّا إِفْكُ افْتَرَاهُ یہ تو ایک بہت بڑا جھوٹ ہے جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے، نہ خدا نے کلام کیا، نہ کوئی بات ہوئی، گھر بیٹھے خدا کی طرف باتیں منسوب کرنے لگ گیا ہے۔دیکھ لیجئے نوائے وقت کے عنوانات پڑھ لیں اور جنگ کے عنوانات پڑھ لیں اور فیصلہ کریں کہ کیا اس زبان میں اور اس زبان میں کوئی اور فرق ہے ؟ فَقَدْ جَاءُ وَظُلْمًا وَ زُوران فرماتا ہیں یہ وہ لوگ ہیں جو ظلم لے کر آئے ہیں اور شدید جھوٹ بولتے ہوئے آئے ہیں ظلم کے ساتھ آئے ہیں۔وَقَالُوا أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ اكْتَتَبَهَا فَهِيَ تُمْلَى عَلَيْهِ بُكْرَةً وَأَصِيلًا اور وہ یہ کہتے ہیں کہ پرانے اس قسم کے جھوٹے لوگ ہوتے چلے آئیں ہیں، پہلے بھی آئے تھے بہت سے جھوٹے یہ ایسی باتیں ہیں کہ اس کو پڑھانے والے پڑھایا کرتے تھے یہ اپنی طرف سے باتیں نہیں کرتا۔پھر دوسری جگہ فرماتا ہے: وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ أَيْتُنَا بَيِّنَتٍ قَالُوْا مَا هُذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ ابَاؤُكُمْ وَقَالُوْا مَا هُذَا إِلَّا إِفْكٌ مُفْتَرَى وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُ وَاللْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُم إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ مُّبِينٌ (: ۳۴) دوسری ایک یہ بھی دلیل دی گئی ہے کہ ہمارے آباؤ اجداد کے مذہب سے اکھیڑتے ہیں ہمیں اور اس وجہ سے یہ حق ہے ایک آمر کو وہ تبلیغ روک دے ایک یہ دلیل ہے۔قرآن کریم فرماتا ہے که یه دلیل تو دشمن دین دیا کرتے ہیں۔حق کے دشمن دیا کرتے ہیں کیونکہ جہاں تک حق کا تعلق ہے اس کو تو تبلیغ سے کوئی خوف نہیں۔یہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے غلام تو نہیں تھے جو لوگوں کو مکہ آنے سے روکتے تھے کہ تم ہمیں آکر تبلیغ کرتے ہو ہم تمہیں ماریں گے۔طائف والے کچھ اور لوگ